لکھنؤ۔ ریگولیٹری سرچارج میں اضافہ کے ذریعے بجلی شرحوں میں اضافے کو بجلی کمپنیوں کی سازش قرار دیتے ہوئے الیکٹریسٹی کنزیومر کونسل کی ہونے والی شنوائی میں قلعی کھولنے کا انتباہ دیا ہے ۔ کونسل کے صدر اودھیش ورما کمیشن میں عرضی دائر کر کے بجلی کمپنیوں کی تجویز کو غیر قانونی قرار دیا اور اسے خارج کرنے کا ڈیمانڈ کیا۔ انہوں کہا کہ 2019 کا ٹیرف آرڈر تین سال بعد ریوائزڈ کرنے کی بات کرنا ایکٹ 2003 کی خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ضابطے کے مطابق ایسے کسی بھی حکم پر 90 دن کے اندر نظر ثانی ہو سکتی ہے مگر یہاں تین سال بعد کی ٹیرف ترمیم کی بات کرنا پوری طرح سے غیرقانونی ہے ۔ ریاستی صلاح کار کمیٹی کے رکن اودھیش کمار ورما نے مفاد عامہ میں آن لائن ایک عرضی بجلی ریگولیٹری میں داخل کرکے بجلی کمپنیوں کی تجویز کر خارج کرنے کا مطالبہ کیا۔ کنزیومر کونسل کے چیئرمین نے اس کے بعد ریگولیٹری کمیشن چیئرمین آر پی سنگھ کے علاوہ رکن وی کے شریواستو اور کے کے شرما سے بھی موبائل پر بات کرکے اپنی عرضی بھی بھیجتے ہوئے صارفین کے ساتھ انصاف کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس کورونا بحران میں صارفین کو بجلی قیمتوں میں راحت دلائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کل شنوائی میں کنزیومر کونسل سب کی قلعی کھول کر پھر صارفین کو جیت سے ہمکنار کرے گا اور ریاست کے صارفین کو جو بجلی کمپنیوں پر تقریباً 19537 کروڑ نکل رہا ہے ، اس کے عوض بجلی شرحوں میں کم کروانے کے لیے پوری طاقت جھوک دے گا۔ کنزیومر کونسل نے اپنی عرضی میں جو سوال کھڑا کیا ہے ، اس میں بجلی کمپنیوں کو جو کہنا ہے کہ ریاست کے بجلی صارفین پر سنہ 2000 سے اب تک 49827 کروڑ روپیہ نکل رہا ہے لہٰذا جیسا کہ نکتہ 5 میں بجلی کمپنیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیرف آرڈر تین دسمبر 2019 سے خطاب کرتے ہوئے ریگولیٹری سرچارج طے کیا جائے جو غیر غیرقانونی ہے کیونکہ جو ٹیرف آرڈر نافذ ہو کر ختم ہو گیا۔
اس کا نوٹیفکیشن تین سال پہلے ختم ہو چکا ہے ’ اس میں ترمیم کی بات کرنا بجلی ایکٹ 2003 اور کمیشن کی جانب سے بنائے رائے ریگولیشن کی خلا ف ورزی ہے ۔