لکھنؤ: یوپی میں بجلی ملازمین کی ہڑتال پر ہائی کورٹ کے سخت ہونے کے بعد اب یوپی حکومت نے بھی سخت کاروائی کی ہے۔ حکومت نے 650 آؤٹ سورسنگ کنٹریکٹ ورکرز کی خدمات ختم کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ ملازمین کو پیش نہ کرنے پر 7 ایجنسیوں کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ دوسری جانب کام نہ کرنے والوں کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ جن ایجنسیوں پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے ان پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اب یہ ایجنسیاں مستقبل میں کارپوریشن میں کام نہیں کر سکیں گی۔بجلی کی فراہمی میں خلل نہ ڈالنے کے پہلے احکامات کے باوجود ریاست کے بجلی محکمہ کے ملازمین کے ہڑتال پر جانے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے الہ آباد ہائیکورٹ نے جمعہ کو محکمہ کے ملازمین کے یونین لیڈروں کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کی۔ عدالت نے ان رہنماؤں کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں 20 مارچ 2023 کو عدالت میں پیش ہونے کو کہا۔ دریں اثنا، اتر پردیش پاور کارپوریشن لمیٹڈ (یو پی پی سی ایل) نے مختلف تنظیموں کے کل 18 عہدیداروں کو نوٹس جاری کیا ہے، جن میں ودیوت کرمچاری سنیکت سنگھرش سمیتی کے کنوینر شیلیندر دوبے بھی شامل ہیں، اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہڑتال واپس لے لیں۔