لکھنو : اُترپردیش میں جرائم کے واقعات بالکل عام ہو چکے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر پٹائی اور قتل معمول کی خبریں بن گئی ہیں۔ تازہ معاملہ اُتر پردیش کے بہرائچ کا ہے جہاں ’سوچھ بھارت‘ کے نام پر کچھ لوگوں نے 23 سالہ نوجوان کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سہیل نامی نوجوان پبلک پلیس پر کھلے میں پیشاب کر رہا تھا جسے مبینہ طور پر چار لوگوں نے پیٹ پیٹ کر بے دَم کر دیا۔ اسے علاج کیلئیاسپتال لے جایا گیا، لیکن علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔ واقعہ کے بعد تین لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور پولیس جانچ شروع ہو گئی ہے۔واقعہ اتوار کی دیر رات کا بتایا جا رہا ہے۔ بہرائچ ضلع کے کھیری ڈکولی گاؤں میں سہیل اپنے چچا کے گھر کے سامنے پیشاب کر رہا تھا۔ اس حرکت پر پڑوسیوں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ خبروں کے مطابق رام مورت، آتما رام، رام پال، سنیہی اور منجیت نے کھلے میں پیشاب کرنے پر اعتراض ظاہر کیا اور پھر لاٹھی ڈنڈوں سے حملہ کر دیا۔ الزام ہے کہ چاروں اسے تب تک پیٹتے رہے جب تک وہ نیم مردہ نہیں ہوگیا۔ سہیل کے اہل خانہ اسے فوراً اسپتال لے گئے لیکن اس کی زندگی نہیں بچائی جا سکی۔بہرائچ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ وپن مشرا نے واقعہ کے تعلق سے بتایا کہ حملے میں سہیل سنگین طور پر زخمی ہو گیا تھا اور اسے ضلع اسپتال لے جایا گیا جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔ وپن مشرا نے مزید کہا کہ مہلوک کے چچا نے شکایت درج کرائی ہے جس کی بنیاد پر معاملہ درج کر لیا گیا ہے۔ اس تعلق سے رام مورت، سنیہی اور منجیت کو حراست میں بھی لیا گیا ہے، باقی ملزمین کو پکڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔
