یوپی کی اہم مسلم شخصیتوں کی تصاویر چوراہوں پر آویزاں

,

   

سی اے اے کیخلاف احتجاج کرنے اور لکھنؤ تشدد کا ذمہ دار قرار دیا گیا

لکھنؤ 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی مسلم دشمنی میں دن بدن شدت آتی جارہی ہے۔ سی اے اے کیخلاف احتجاج کرنے اور لکھنؤ میں ہوئے تشدد کے الزام میں اترپردیش کی اہم مسلم شخصیتوں کے بشمول 57 افراد کی تصاویر، نام، ولدیت اور مکمل پتہ کے ساتھ ہورڈنگس آویزاں کئے گئے ہیں۔ سی اے اے کیخلاف پھوٹ پڑنے والے تشدد میں سرکاری املاک کے نقصان کی پابجائی کے لئے بھی مذکورہ افراد سے ہرجانہ وصول کیا جارہا ہے۔ تصویروں کے ساتھ یہ ہورڈنگس لکھنؤ کے کئی چوراہوں اور شاہراہوں پر نصب کردیئے گئے ہیں۔ اِن میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ شہر کے کچھ اہم اور معزز شخصیات کے نام بھی شامل ہیں بالخصوص سابق آئی جی پولیس ایس آر داراپوری، معروف وکیل اور رہائی منچ کے صدر شعیب ایڈوکیٹ، معروف سماجی کارکن صدف جعفر، معروف عالم دین مولانا سیف عباس اور مولانا کلب صادق کے فرزند کلب سبطین نوری کے ناموں کو لے کر شہر کی فضاء تبدیل ہورہی ہے۔ حکومت اور پولیس انتظامیہ کے اِس عمل کی مذمت اور تنقید کی جارہی ہے۔