لکھنؤ: اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ نے تمام اداروں کو، چاہے وہ رجسٹرڈ ہوں یا رجسٹرڈ نہ ہوں، اپنے احاطے میں پری پرائمری کلاسز منعقد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ابھی تک بورڈ پری پرائمری کلاسز میں داخلوں پر خاموش تھا۔ یہ فیصلہ ان اطلاعات کے بعد لیا گیا کہ بہت سے مدارس پہلے ہی اپنے کیمپس میں پری پرائمری کلاسز چلا رہے ہیں۔ تاہم بورڈ نے واضح کیا ہے کہ ایسی کلاسوں کے اخراجات مدرسہ کو ہی برداشت کرنے ہوں گے۔بورڈ کے رجسٹرار کی طرف سے جاری کردہ ایک حکم میں کہا گیا ہیکہ یہ متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام مدارس میں پری پرائمری کلاسز کی اجازت دی جانی چاہیے۔ اس وقت اتر پردیش میں 16,513 تسلیم شدہ اور 7,500 سے زیادہ غیر رجسٹرڈ مدارس ہیں۔ تمام انتظامات بشمول انفراسٹرکچر، مناسب اساتذہ، سیکورٹی اور طلباء کی تعلیم کا مدارس کی طرف سے خیال رکھا جائے گا اور ریاست کسی قسم کے فنڈز فراہم نہیں کرے گی۔ بورڈ کے چیئرپرسن افتخار احمد جاوید نے کہا، “2021 سے، مدارس میں چلنے والی پری پرائمری کلاسوں کو ریگولرائز کرنے کیلئے بات چیت ہوئی ہے، کیونکہ والدین کے مطالبے کی وجہ سے کئی ادارے کلاسز چلا رہے تھے۔
کافی سوچ بچار کے بعد بالآخر پری پرائمری کلاسز کو قانونی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔فیصلہ متفقہ ہے۔
