یوکرین۔ روس کشیدگی : امریکی سفارتی عملہ کیف سے نکل گیا

   

اسرائیل ، فلسطین ، بلجیم ، مراقش اور دیگر کئی ممالک نے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت دی

واشنگٹن : امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ہوائی میں اپنے جاپانی اور جنوبی کوریائی ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا کہ یوکرین اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث واشنگٹن نے اپنے سفارت خانے کے زیادہ تر عملے کو کیف سے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ہفتے کے روز کہا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر امریکا اپنے سفارت خانے کے اہلکاروں کو یوکرین کے دارالحکومت کیف سے منتقل کر رہا ہے ۔ کینیڈا اور آسٹریلیا دونوں نے کہا کہ وہ کیف میں سفارتخانے کی کارروائیاں معطل کر رہے ہیں اور یوکرین کے بحران کے بڑھنے کے بعد لویو میں عارضی دفاتر کھول رہے ہیں۔اسی دوران اسرائیل نے اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت دی ۔ بلجیم ، فلسطینی اتھاریٹی ، مراقش اور دیگر کئی ممالک نے بھی یوکرین میں مقیم اپنے شہریوں کو یوکرین سے نکل جانے کا مشورہ دیا ہے ۔ مسٹر بلنکن نے ہفتہ کو جاپانی وزیر خارجہ حیاشی یوشیماسا اور جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چنگ یو یونگ کے ساتھ ہونولولو، ہوائی میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہاکہ روسی فوجی کارروائی کا خطرہ بہت زیادہ ہے اور خطرہ اتنا قریب آ گیا ہے کہ ایسا کرنا سمجھ میں آتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک امریکی سفارتی ٹیم یوکرین میں رہے گی اور یوکرین کے اتحادیوں کے ساتھ وہاں کام جاری رکھے گی۔ مسٹر بلنکن نے دعویٰ کیاکہ اگر روس کوئی اشتعال انگیزی کرتا ہے یا کوئی ایسا واقعہ کرتا ہے جسے وہ فوجی کارروائی کا جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے تو کسی کو حیران نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی راستہ کھلا رہے گا اور روس پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کو کم کرے ۔