ماسکو، 25 فروری (یو این آئی) روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور مغربی انٹیلیجنس کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین اور اس کے اتحادی جس حد تک جا رہے ہیں اس پر انھیں پچھتانا پڑے گا۔ روسی انٹیلیجنس سروس ایس وی آر سے خطاب میں صدر پوتن نے کہا کہ مخالفین جانتے ہیں اگر انھوں نے جوہری عنصر استعمال کیا تو اس کا انجام کیا ہوگا، روسی توانائی تنصیبات پر حملوں کی دھمکیوں سے یوکرین امن عمل تباہ کر رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ روس کے خلاف دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے ، جس میں یوکرینی اور مغربی انٹیلیجنس ایجنسیاں ملوث ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل روسی انٹیلیجنس سروس نے کہا تھا کہ برطانیہ اور فرانس یوکرین کو جوہری ہتھیاروں کے پرزے اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی تیاری میں ہیں۔ روسی میڈیا کے مطابق روس کی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس نے منگل کو کہا تھا کہ لندن اور پیرس میں حکام خفیہ طور پر ایسے اجزا، آلات اور ٹیکنالوجیزبھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جن کے ذریعے آبدوز سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل تیار کیا جاسکے ، جو تھرمو نیوکلیئر وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ روسی خفیہ ایجنسی نے اشارہ دیا کہ مبینہ جوہری ہتھیار یوکرین کو امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات میں برتری فراہم کر سکتا ہے ۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس رپورٹ پر کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کے تمام ضوابط اور اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے اور عدم پھیلاؤ کے پورے نظام کے لیے ایک خطرہ قرار ہے ۔