یوکرین : برطانیہ،روس کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ

   

لندن: یوکرین بحران کے درمیان برطانیہ کی وزیر خارجہ لیز ٹرس اور روس کے وزیر خارجہ سرغئی لاوروف کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں روس کے خلاف برطانیہ کی جانب سے سخت پابندی لگائے جانے کے منصوبہ پر بات چیت ہوسکتی ہے ۔ دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق محترمہ ٹرس اور مسٹر لاوروف کی میٹنگ ایسے وقت میں ہورہی ہے جبکہ برطانیہ کے افسروں نے اشارہ دیا ہے کہ یوکرین سرحد سے روسی فوجیوں کو پچھے ہٹائے جانے کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ برطانیہ کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خارجہ،وفد اور ترقی کے معاملوں کے (ایف سی ڈی او) وزیر اقتصادی پابندیوں کے بارے میں ایک نئے بل پر اسی ہفتے دستخط کریں گے اور اسے جلد ہی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔اس بل کا مقصد ایسی کمپنیوں پر پابندی لگانا ہے جو روسی حکومت سے جڑی ہوں یا اس کی اہمیت کے کاروبارمیں لگی ہیں یا روسی حکومت کے لئے حکمت عملی کے طورپر اہم علاقوں کے لئے کام کرتی ہوں وزارت کا کہنا ہے کہ روس کے خلاف یا برطانیہ کے ذریعہ لگایا گیا سب سے زیادہ سخت قانون ہوگا اور دیگر حصہ داروں کے ساتھ اس معاملے میں مل کر کام کر سکیں گے ۔ ٹرس نے اپنے سفر سے پہلے کہا،‘‘روس کو ہماری کارروائی کی سختی کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے ۔ہم نے کئی بار کہا ہے کہ آگے کوئی بھی حملہ ہوا تو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور اس کے خلاف باقاعدہ پابندی نافذ کی جا سکتی ہے ۔روس کے سامنے ابھی یہ متبادل ہے ہم چاہتے ہیں کہ وہ بات چیت میں شامل ہوں اور فوجی کی موجودگی کو کم کریں اور سفارت کا راستہ اختیار کریں۔