یوکرین جنگ: ایک ماہ میں روسی افواج کا کتنا نقصان ہوا؟

   

لندن :روس کی افواج کو پڑوسی ملک یوکرین میں داخل ہوئے ایک ماہ ہونے کو ہے اور اس دوران جنگ بندی کرانے کی سفارتی کوششیں بار آور ثابت نہیں ہوپائی ہیں۔ یوکرین کے شہروں پر روسی افواج کے حملے جاری ہیں اور ملک کا جنوبی ساحلی شہر ماریوپول اس وقت محاصرے میں ہے۔جہاں 2 لاکھ سے زائدآ بادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔چہارشنبہ کو ماریوپول شہر میں دو زوردار دھماکے سنے گئے جن کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔ مقامی انتظامیہ شہریوں کو ریسکیو کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماریوپول میں دو لاکھ آ بادی جنگ میں پھنس چکی ہے جبکہ وہاں سے زندہ نکل جانے والوں نے شہر کو ایک ایسا سرد جہنم قرار دیا ہے جہاں ہر طرف تباہ شدہ عمارتیں اور لاشیں نظر آرہی ہیں۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس ایٹمی یا جوہری ہتھیار یوکرین کے ساتھ تنازعہ میں صرف اسی وقت استعمال کر سکتا ہے جب اس کو اپنا وجود برقرار رکھنے کا خطرہ لاحق ہو۔ انھوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے روس کی پہلے سے یہی پالیسی ہے۔ یوکرین پر حملے کے بعد سے روس نے کئی مرتبہ بڑے اہداف حاصل کرنے کے دعوے کیے جبکہ یوکرین، مغرب اور امریکہ نے روسی افواج کو سخت مزاحمت اور بھاری نقصان پہنچنے کے بیانات دیئے۔ تاہم، ان بیانات کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔ اے ایف پی کے مطابق کریملن کی جانب جھکاؤ رکھنے والے اخبار کومسومولسکایا پراودا نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ یوکرین میں نو ہزار 861 روسی فوجی مارے گئے جبکہ 16 ہزار 153 زخمی ہوئے۔اقوام متحدہ کے مطابق یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے اب تک 35 لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔اے ایف پی کے یہ اعداد وشمار سرکاری طور پر بتائے گئے نقصان سے 20 گنا زائد ہیں۔اخبار نے اپنی رپورٹ اشاعت کے کچھ دیر بعد ہی اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دی۔سوشل میڈیا پر یوکرین کے سرکاری ذرائع کے حوالے سے روسی افواج کے نقصان کی درجنوں ویڈیوز سامنے آ ئیں جن میں لڑاکا طیاروں، ہیلی کاپٹرز کے گرنے اور تباہ شدہ ٹینکوں کو دکھایا گیا۔ تاہم جانی نقصان کے حوالے سے مصدقہ اعداد وشمار دستیاب نہیں۔