نیروبی ۔ 11 فبروری (ایجنسیز) کینیا نے منگل کے روز بھرتی ایجنسیوں کے اس “ناقابلِ قبول” عمل کی مذمت کی ہے جو کینیا کے لوگوں کو منافع بخش ملازمتوں کے لالچ میں روس آنے پر راغب کر رہی ہیں جبکہ حقیقت میں انہیں “توپ کے چارے” کے طور پر یوکرین جنگ کی صفِ اول میں بھیج دیا جاتا ہے۔حالیہ ہفتوں میں بڑھتی ہوئی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ روس میں زیادہ معاوضے پر کام کے دھوکے میں آ جانے والے کینیا کے لوگ میدان جنگ میں مر رہے ہیں اور دیگر شدید زخموں کا شکار ہیں۔اے ایف پی کی اس ہفتے شائع کردہ تحقیقات سے دھوکہ دہی کے جال کا انکشاف ہوا جس میں چار افراد پھنس گئے جن کا فوجی تعلیم و تربیت کا کوئی پس منظر نہیں تھا۔ وہ روسی فوج کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کرنے پر مجبور ہو گئے اور انہیں تیزی سے یوکرین میں اگلے مورچوں پر بھیج دیا گیا۔جونیئر وزیرِ خارجہ کوریر سنگ اوئی نے اے ایف پی کو بتایا، “ان کا اس تنازعہ میں شریک ہونا ناقابلِ قبول ہے۔”ان چاروں کو جن میں سے تین زخمی ہو کر واپس آئے، کو روسی زبان میں لکھے ہوئے معاہدے دیے گئے۔ایک کو سیلز مین، دو کو سکیورٹی گارڈز اور چوتھے کو ایک اعلیٰ سطحی ایتھلیٹ کے طور پر کام دینے کا کہا گیا۔
یو اے ای سواٹ چیلنج میں
پاکستان اور چین کی برتری نمایاں
ابوظہبی۔ 11 فبروری (ایجنسیز) یو اے ای سواٹ چیلنج 2026 سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ جدید دور کی جنگ صرف نعروں اور سیاسی دعوؤں سے نہیں جیتی جاتی۔ یو اے ای سواٹ چیلنج 2026 میں ہندوستان کو بیک وقت دو مقابلوں میں سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایونٹ میں ہندوستان کو پاکستانی نیشنل سیکیورٹی یونٹ اور پھر چین کی خواتین ٹیم نے مات دی۔ سندھ پولیس کے اسپیشل سیکیورٹی یونٹ نے یرغمالیوں کے بچاؤ کے ایونٹ میں ہندوستانی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کو ہرایا۔
دوسری طرف ایونٹ میں چینی خواتین ٹیم نے رفتار، کوآرڈینیشن اور فائرنگ کی درستگی میں ہندوستانی ٹیم کو کئی گنا پیچھے چھوڑ دیا۔دبئی پولیس کے زیر اہتمام ہونے والے اس عالمی مقابلے میں دنیا کے 52 ممالک کی 118 ایلیٹ سواٹ ٹیموں نے شرکت کی۔دفاعی ماہرین کے مطابق جدید جنگ میں تربیت، ٹیم ورک اور فیصلہ سازی میں نااہلی نے مودی کی جنگی تیاریوں کے کھوکھلے نعروں کو بے نقاب کردیا ہے۔ ہندوستانی ٹیم میں کوآرڈینیشن کی کمزوری اور فائرنگ میں سست روی نے ظاہر کیا کہ ہندوستانی فورسز نمائشی طاقت کے خول میں قید ہیں۔دفاعی ماہرین نے کہا کہ حقیقی میدان میں کامیابی محض سیاسی بیانیہ نہیں بلکہ عملی پیشہ ورانہ صلاحیت طے کرتی ہے، پاکستان اور چین کی برتری منظم تربیت، مسلسل مشق اور حقیقی منظرناموں کی عکاس ہے۔