واشنگٹن : امریکی کانگریس کی جانب سے یوکرین کے لیے عسکری امداد کی درخواست نظرانداز ہونے کے بعد صدر جو بائیڈن نے اپنے مغربی اتحادیوں کو روس کے خلاف جنگ میں مدد جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدربائیڈن نے یورپی اتحادی ممالک کے ساتھ ٹیلی فونک کانفرنس کی جس میں یورپی ممالک کے علاوہ کینیڈا اور جاپان کے سربراہان بھی شامل تھے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹیلی فون کال میں شامل تمام ممالک نے زور دیا کہ یوکرین کے لیے ان کی حمایت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور کسی نے بھی امریکہ کی کیئف کے لیے سپورٹ پر شکوک و شبہات کا اظہار نہیں کیا۔تاہم بائیدن انتظامیہ نے کانگریس کو خبردار کیا ہے کہ یوکرین کے لیے امداد کی فراہمی میں خلل نہیں پیدا ہونا چاہیے تاکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کسی بھی قسم کی کوتاہی کو اپنے فائدے میں نہ استعمال کریں۔وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کی جانب سے امریکی امداد کی منظور شدہ موجودہ قسط یوکرین کی مدد کے لیے آئندہ کچھ ہفتوں یا کچھ مہینوں کے لیے کافی ہوگی تاہم انہوں نے کہا کہ درست تخمینہ میدان جنگ کی صورتحال پر ہی منحصر ہے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹیلی فون کال پر یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی، اس کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کیعلاوہ سردیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔رہنماؤں نے یوکرین کی معاشی بحالی میں مدد کے لیے نجی عطیات کو منظم کرنے پر بھی غور کیا۔یوکرین کی امداد کا مستقبل سنیچر سے ہی غیریقنی کا شکار ہے جب بائیڈن نے امریکی حکومت کے آپریشن نومبر کے وسط تک جاری رکھنے کے لیے درکار فنڈنگ کا بل دستخط کر کے کانگریس کو بھیجا تھا جبکہ اس میں کیئف کے لیے اضافی امداد کو نظرانداز کیا گیا جس کی اگست میں یقین دہانی کرائی گئی تھی۔