یوکرین میں مغربی ممالک کی شکست ناگزیر : میدویدیف

   

کیف : روسی سلامتی کونسل کے نائب صدر نشین میدویدیف نے کہا کہ جب مغربی حکام بدل جائیں گے اور ان کے اشرافیہ تھک جائیں گے تب وہ یوکرین پر مذاکرات اور تنازعہ کو روک دینے کی بھیک مانگیں گے۔ دمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ یوکرین میں مغربی ملکوں کی شکست ’’ناگزیر‘‘ ہے۔ وہ مذاکرات کی بھیک مانگیں گے۔ روسی ایجنسی ’’اسپوتنک‘‘ نے میدویدیف کے حوالے سے کہا کہ مغرب کیف کی حمایت اس حد تک جاری نہیں رکھے گا کہ اس کے مفادات کو نقصان پہنچے۔ میدویدیف نے مزید کہا کہ اس میں کچھ وقت لگے گا اور مغربی حکام بدل جائیں گے۔ ان کے اشرافیہ تھک جائیں گے اور یوکرین پر مذاکرات اور تنازع کو روک دینے کی بھیک مانگیں گے۔ وہ روسی صدر پوتین کے بہت قریب جانے جاتے ہیں نے روسی حملے کے ذریعہ کیف میں حکومت کے مکمل خاتمہ کی ضرورت کا اشارہ دیا تھا۔ العربیہ کے مطابق یوکرین کے جوابی حملے کے بارے میں موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے میدویدیف نے کہا کہ ہمیں دشمن کو روکنا چاہیے اور پھر جارحانہ کارروائی شروع کرنی چاہیے۔ آج روسی حملے کا مقصد صرف ہماری زمینوں کی آزادی اور اپنے لوگوں کا تحفظ نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارا مقصد کیف میں نازی حکومت کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ کیف ریاست 404 میں شامل تھا۔