یوکرین ناٹوکی رکنیت کا خواہاں نہیں ، روس کا مطالبہ قبول

   

کیف؍لندن: یوکرینی صدرولودیمیرزیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ اب اپنے ملک کومعاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم ناٹو کی رکنیت دینے پراصرارنہیں کررہے ہیں۔ یوکرینی صدر نے اے بی سی نیوز کے ساتھ انٹرویو میں روس کی فوجی مہم جوئی کے تعلق سے پہلی مرتبہ مفاہمانہ ردعمل کا اظہارکیا ہیاورکہا ہے کہ وہ روس کے حامی دو الگ ہونے والے علاقوں کی حیثیت پر سمجھوتہ کرنے کوتیارہیں۔روسی صدر ولادی میرپوتین نے 24 فروری کوحملہ کرنے سے عین پہلے یوکرین کے ان دونوں علاقوں کو آزاد اور خودمختارتسلیم کرلیا تھا۔زیلنسکی نے پیرکی رات نشر ہونے والے اس انٹرویو میںکہا کہ ناٹویوکرین کو قبول کرنے کوتیارنہیں ہے اوریہ فوجی اتحاد متنازع چیزوں اور روس کے ساتھ تصادم سے خوفزدہ ہے۔ناٹو کی رْکنیت کا ذکر کرتے ہوئے زیلنسکی نے ایک ترجمان کے ذریعے کہا کہ وہ کسی ایسے ملک کاصدر نہیں بننا چاہتے جو گھٹنوں کے بل کچھ بھیک مانگ رہا ہو۔یوکرین کی ناٹو میں ممکنہ شمولیت ایک نازک مسئلہ ہے اور روس نے اس معاملے کو بھی مغرب نواز پڑوسی ملک پر حملے کی وجہ جواز قراردیا تھا۔

ناٹو روس کیخلاف جانے سے ڈرتا ہے:زیلنسکی
کیف : یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ ناٹو روس کیخلاف کوئی بھی قدم اٹھانے سے ڈرتا ہے، ہم روسی حملے کیخلاف بھرپورمزاحمت کرتے رہیں گے، میں ایسے ملک کا صدربننا نہیں چا ہتا جوکسی بھی چیز کے لئے دوسرے ملک کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کربھیک مانگے۔یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی نے بیان میں کہا کہ ناٹوروس کے خلاف کسی بھی کارروائی سے ڈرتا ہے۔ یوکرین اب ناٹو کا حصہ بننے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔روس یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایسے ملک کا صدربننا نہیں چاہتے جوکسی بھی چیز کے لئے دوسرے ملک کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کربھیک مانگے۔صدر ولادیمیر زیلینسکی کا کہنا تھا کہ وہ روس کی جانب سے دوآزاد ریاستوں کو تسلیم کرنے کے معاملے پربھی سمجھوتے کے لئے تیارہیں۔یوکرینی صدرنے کہا کہ روسی حملے کے خلاف بھرپورمزاحمت کرتے رہیں گے۔ عالمی برادری اس معاملے پرعملی کردارادا کرے۔

روس کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتاکہ یوکرین ناٹو میں شامل ہو۔یادرہے کہ گذشتہ صدی کے وسط میں سرد جنگ کے آغاز میںیورپ کو سوویتیونین سے بچانے کے لیے بحراوقیانوس کے آرپار واقع ممالک کے درمیانیہ فوجی اتحاد تشکیل دیا گیا تھا۔حالیہ برسوں میں اس اتحاد میں سابق سوویت بلاک کے بعض سابق ممالک کو شامل کیا گیا ہے جس پرروس نالاں ہے کیونکہ وہ ان ممالک کی ناٹو میں شمولیت کی مخالفت کرتا رہا ہے۔روس ناٹو کی توسیع اور رکن ممالک کی تعداد میں اضافے کوخطرے کی ایک علامت قراردیتا ہے اور وہ مغرب کے ان نئے اتحادیوں کو اپنی دہلیز پرایک فوجی قوت کے طور پر دیکھتاہے۔صدر پوتین نے یوکرین پرحملے کا حکم دینے سے چندے قبل مشرقی یوکرین میں واقع دوعلاحدگی پسند روس نواز جمہوریاؤںدونیسک اورلوہانسک کوخودمختار اورآزاد تسلیم کرلیا تھا۔یہ دونوں جمہوریہ سنہ 2014 سے دارالحکومت کیف کے ساتھ حالتِ جنگ میں تھیں۔صدرپوتین اب چاہتے ہیں کہ یوکرین بھی انھیں خودمختار اور آزاد تسلیم کرے۔جب اے بی سی نیوزنییوکرینی صدر سے اس روسی مطالبے کے بارے میں پوچھا توانھوں نے کہا کہ وہ اس موضوع پرمزید بات چیت کے لیے تیار ہیں۔انھوں نے کہاکہ میں سکیورٹی کی ضمانت کے بارے میں بات کررہا ہوں۔ان دونوں خطوں کو روس کے سواکسی اور ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے لیکن ہم اس موضوع پربات چیت کرسکتے ہیں اوراس پرکوئی سمجھوتہ طے کرسکتے ہیں کہ یہ علاقے کس طرح رہیں گے۔