یوکرین کیلئے مشروط امریکی ضمانتیں

,

   

لندن ۔ 27 جنوری (ایجنسیز) برطانوی اخبار فائنینشل ٹائمزنے آٹھ با خبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اگر یوکرین چند علاقائی مراعات (علاقوں سے دستبرداری) پر مشتمل امن معاہدے پر اتفاق کر لیتا ہے، تو امریکہ اسے سکیورٹی ضمانتیں فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔اخبار کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ اگر کئیف ملک کے مشرقی حصے میں واقع “ڈونباس” کے زیرِ قبضہ علاقوں سے اپنی افواج نکالنے پر رضامند ہو جائے، تو امریکہ امن کے وقت میں یوکرینی فوج کو مضبوط کرنے کیلئے مزید اسلحہ فراہم کر سکتا ہے۔روئٹرز ابھی تک اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے اور وائٹ ہاؤس نے بھی اس پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا تا حال کوئی جواب نہیں دیا ہے۔یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی نے اتوار کو کہا تھا کہ یوکرین کیلئے سکیورٹی ضمانتوں سے متعلق امریکی دستاویز “100 فیصد تیار” ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کہ کئیف اب اس پر دستخط کیلئے وقت اور جگہ کے تعین کا منتظر ہے۔ زیلنسکی مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کیلئے کسی بھی امن معاہدے میں یوکرین کی علاقائی سالمیت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ایک اعلیٰ یوکرینی عہدے دار نے فائنینشل ٹائمز کو بتایا کہ یوکرین کے شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں کہ آیا واشنطن سکیورٹی ضمانتیں فراہم کرنے کے اپنے عہد پر قائم رہے گا یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ “ہر اس موقع پر ہچکچاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے جب سکیورٹی ضمانتوں پر دستخط کیے جا سکتے ہوں”۔اخبار کے مطابق یوکرین کسی بھی علاقے سے دست بردار ہونے سے پہلے ضمانتوں کی تصدیق چاہتا ہے، لیکن امریکہ کا خیال ہے کہ جنگ ختم کرنے کیلئے کئیف کو ڈونباس سے دست بردار ہونا پڑے گا … اور وہ اس مطالبے سے پیچھے ہٹنے کیلئے روسی صدر ولادی میر پوتین پر کوئی دباؤ نہیں ڈال رہا۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی پریس سکریٹری اینا کیلی نے اخبار کی رپورٹ کو “جھوٹ” قرار دیا ہے اور اشارہ کیا ہے کہ ابوظہبی میں روس، امریکہ اور یوکرین کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی “تاریخی ملاقات” اور مذاکرات کا عمل “بہترین حالت” میں ہے۔