لکھنؤ:سماجو ادی پارٹی صدر اکھلیش یادو نے جھانسی میڈیکل کالج میں آگ لگنے کے واقعہ کو تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ سے کہا کہ سب ٹھیک ہونے کا جھوٹا دعوی کرنے کی بجائے انہیں طبی شعبے کی بدحالی پر دھیان دینا چاہئے ۔یادو نے ایکس پر پوسٹ کیا’ جھانسی میڈیکل کالج میں آگ لگنے سے 10بچوں کی موت اور کئی بچوں کے زخمی ہونے کی خبر بے حد تکلیف دہ اور تشویش ناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آگ کی وجہ ‘آکسیجن کانسنٹریٹر میں آگ لگنا بتایا جارہا ہے ۔ یہ اسپتال منجمنٹ اور انتظامیہ کی لاپرواہی ہے ۔ یا پھر خراب کوالٹی کے آکسیجن کنسنٹریٹر کا۔ اس معاملے میں سبھی ذمہ افراد پر تادیبی کاروائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو انتخابی مہم اور سب ٹھیک ہونے کے جھوٹے دعوی چھوڑ کر ہیلتھ و میڈیکل کی بدحالی پر دھیان دینا چاہئے ۔جنہوں نے اپنے بچے گنوائے ہیں وہ پریوار والے ہی اس کا دکھ درد سمجھ سکتے ہیں۔ یہ سرکاری ہی نہیں ، اخلاقی ذمہ داری بھی ہے ۔ امید ہے کہ انتخابی سیاست کرنے و الے خاندانی آفت کی اس گھڑی میں اس کی جانچ کروائیں گے اور ہیلتھ و میڈیکل وزارت میں خاطر خواہ تبدیلی کریں گے ۔ڈپٹی چیف منسٹر برجیش پاٹھک پرتنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اترپردیش کے ‘ہیلتھ اور میڈیکل وزیرسے کچھ نہیں کہنا ہے کیوںکہ انہیں کی وجہ آج اترپردیش میں ہیلتھ اینڈ میڈیکل کی اتنی بدحالی ہوئی ہے ۔ فرقہ وارانہ سیاست و سطحی تبصرے کرنے میں الجھی وزیر کو تو شاید یہ بھی یاد نہیں ہوگیا کہ وہ’ہیلتھ اینڈ میڈیکل کے وزیر ہیں۔نہ تو ان کے پاس کوئی طاقت ہے نہ ہی قوت ارادی، بس ان کے نام کی تختی ہے ۔