’لو جہاد‘ اور زبردستی تبدیلیٔ مذہب کیخلاف قانون اچھائی کی علامت ، سزا پر مسلمانوں کو اعتراض نہیں: مسلم پرسنل لاء بورڈ
نئی دہلی : اترپردیش کی حکومت نے شادی کی غرض سے تبدیلیٔ مذہب کو روکنے آرڈیننس منظور کیا ہے۔ اِس پر مسلم قائدین نے محتاط ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو اِس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ اِس قانون سے مذہبی آزادی سے متعلق دستوری حق پر ضرب نہ پڑے۔ حکومت کا قانون عام شہریوں کے دستوری حق کو سلب کررہا ہے۔ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کی زیرقیادت ریاستی کابینہ کے اجلاس میں مسودہ قانون کو منظوری دی گئی جس کے تحت 10 سال کی جیل ہوگی اور 50 ہزار روپئے کا جرمانہ کیا جائے گا۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن خالد رشید فرنگی محلی نے کہاکہ اِس قانون کی اچھی چیز یہ ہے کہ آرڈیننس میں ’لو جہاد‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی اور زبردستی تبدیلی مذہب کے تعلق سے کہا گیا ہے کہ یہ غیر قانونی ہے اور مستوجب سزا ہے۔ مسلمانوں کے قانون میں بھی زبردستی مذہب کی تبدیلی جرم ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ زبردستی مذہب کی تبدیلی کو منصفانہ قرار نہیں دیا جاسکتا لہذا ہم مذہب کی تبدیلی کرنے والوں کو سزا دینے پر اعتراض نہیں کریں گے۔ ہندوؤں کے ایک گوشہ نے مسلم شخص کی مبینہ طور پر خواتین سے محبت اور شادی کے واقعات پر ’لو جہاد‘ کا نام دیا ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ ملک میں امن و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے مسلمانوں اور ہندوؤں کو اپنے طبقہ میں ہی شادی کرنے کی ضرورت ہے۔ آرڈیننس میں جو کچھ کہا گیا ہے ہمیں اِس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن نے مزید کہاکہ کوئی بھی قانون نافذ ہوتا ہے تو اِس کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی شہری کے ساتھ کوئی امتیاز برتا نہیں جائے گا۔ ہمیں توقع ہے کہ اِس قانون کا بھی غلط استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ہمارے قانونی ماہرین اِس قانون کا جائزہ لیں گے اور یہ دیکھیں گے کہ آیا اِس سے تمام ہندوستانیوں کے لئے مذہبی آزادی کے دستوری حق پر کوئی کاری ضرب تو نہیں ہے اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں اِس قانون پر کوئی اعتراض نہیں۔ شائستہ عنبر آل انڈیا ویمن مسلم پرسنل لاء بورڈ سربراہ نے کہاکہ اِس طرح کے قوانین کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اگر کوئی زور زبردستی سے شادی کرتے ہوئے مذہب تبدیل کراتا ہے تو اِس کی روک تھام کے لئے پہلے سے ہی سخت قوانین موجود ہیں اور ایسے قوانین ہونا بھی چاہئے۔ نیا قانون لانے کی ضرورت نہیں ہے۔