یوگی حکومت کا بجٹ جھوٹے خوابوں سے بھرپور :اکھلیش

   

لکھنو: سماج وادی پارٹی(ایس پی)سربراہ و یوپی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اکھلیش یادو نے پیر کو کہا کہ بی جے پی حکومت کا بجٹ جھوٹے خواب دکھانے والا ہے۔اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران اکھلیش نے کہا کہ یہ بجٹ عوام کو جھوٹے خواب دکھاتا ہے۔ جبکہ زمینی حقیقت کچھ اور ہے۔ یہ کسانوں کو دھوکہ دینے والا بجٹ ہے۔ سماج وادی حکومت نے جو کام کئے تھے بی جے پی نے ان کو اپنا بتا کر کام چلارہی ہے۔ اس بات میں شبہ ہے کہ سال 2022-23 کیلئے حکومت جو بجٹ لے کر آئی ہے اسے خرچ بھی کرپائے گی یا نہیں۔ اکھلیش نے کہا کہ حکومت کو بتانا چاہئے کہ اس نے گنا کسانوں کے بقایا جات کی کتنی ادائیگی کی ہے اور ابھی کتنا بچا ہے۔حکومت کوآپریٹیو ملوں کی ادائیگی کے بارے میں بات کرتی ہے لیکن پرائیویٹ ملوں کا کیا ہوا؟۔مہنگائی پر کنٹرول حاصل کرنا حکومت کے بس میں نہیں ہے۔ تعمیرات کے لئے استعمال ہونے والی تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کھانے کے تیل، پٹرول۔ ڈیزل، رسوئی گیس، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔اکھلیش نے کہا کہ نوٹ بندی کے وقت کہا گیا تھا کہ یہ بدعنوانی اور بلیک منی کو ختم کردے گا لیکن اس طرح کا کچھ نہیں ہوا۔سرکاری رپورٹ کے مطابق بازار میں 500اور2000 کے 50فیصدی جعلی نوٹ بازار میں آچکے ہیں۔ مرکزی حکومت جی ایس ٹی کی ادائیگی بھی بند کرنے جارہی ہے۔ ایسے میں بجٹ کے آمد۔ صرفہ کا فرق کیسے پورا ہوگا۔سابق وزیر اعلی نے صحت اور تعلیمی شعبے کی بدحالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں میں ڈاکٹرس، نرس،وارڈ بوائے کی کمی ہے۔کروڑوں روپئے قیمت کی ایکسپائر دوائیں پڑی ہیں۔ نیتی آیوگ کی رپورٹ کہتی ہے کہ تعلیم کے معاملے میں اترپردیش نیچے سے چوتھے مقام پر ہے۔ پرائمری اسکلوںمیں ٹھیک سے پڑھائی نہیں ہورہی ہے۔.انہوں نے کہا کہ لفظ’سوشلزم‘ آئین ہند کے دیباچہ میں ہے۔ جو لوگ سوشلزم پر سوال کرتے ہیں وہ جمہوری اور سیکولرنہیں ہوسکتے۔اگر جمہوریت میں یقین نہیں ہے تو کوئی بھی سوشلسٹ اور سیکولر نہیں ہوسکتا۔اگر ہم ان تینوں لفظوں میں سے کسی ایک بھی ہٹا دیں گے تو ملک نہیں چل سکتا۔