لکھنو ۔ اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے ڈیجیٹل میڈیا پالیسی 2024 تیارکی ہے، جس پرکانگریس نے جوابی تنقید کی ہے۔ کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ یوپی حکومت ڈیجیٹل میڈیا پر قبضہ کرنا چاہتی ہے اور اسے کسی قسم کا کوئی خوف نہیں ہے۔کانگریس نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا بی جے پی کی ڈبل انجن والی حکومت اظہار رائے کی آزادی پر حملہ کر رہی ہے۔ یوپی کانگریس نے ٹویٹ کیا یوپی حکومت سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والوں کے لیے ایک نئی اسکیم لے کر آئی ہے۔ اس کے مطابق حکومت کے کام کی تشہیر کرنے والوں کو ماہانہ 8 لاکھ روپے تک مل سکتے ہیں اور ان کی مخالفت کرنے والوں کو سزا کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ یعنی ڈیجیٹل میڈیا کی صریح گرفت ہے ۔ حکومت اب بغیرکسی خوف اور ہچکچاہٹ کے میڈیاکو کھلے عام گلے لگانے کے لیے تیار ہے۔ یہ جمہوریت کو خطرہ نہیں تو اورکیا ہے؟ کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے کہا کیا بی جے پی مخالف یا حکومت مخالف ریمارکس کو ملک مخالف سمجھا جائے گا؟ قابل اعتراض تبصرہ کی تعریف کیا ہے؟ کیا اب ڈبل انجن والی حکومتیں آزادی اظہار کا گلا گھونٹنے کی تیاری کر رہی ہیں؟ انڈیا الائنس کی مخالفت کی وجہ سے مودی حکومت کو براڈکاسٹ بل 2024 واپس لینا پڑا۔ کیا آمریت کو اب پچھلے دروازے سے لایا جا رہا ہے؟ یوپی حکومت نے کہا ہے کہ ایک ڈیجیٹل میڈیا پالیسی تیارکی گئی ہے تاکہ ترقی کی عوامی بہبود کی اسکیموں کو سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچایا جاسکے۔ فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر ریاستی حکومت کی اسکیموں اورکامیابیوں کو پوسٹ کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ اس پالیسی کے ذریعے ملک اور بیرون ملک مقیم ریاست کے لوگوں کو روزگار مل سکے گا۔ علاوہ ازیں فیس بک اور انسٹاگرام کے فالوورز اور سبسکرائبرزکو چار زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں ہر ماہ 5 لاکھ روپے، 4 لاکھ روپے، 3 لاکھ روپے اور2 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔