استنبول : پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کسی بھی طرح کے ‘امن مذاکرات’ میں مصروف نہیں اور متحدہ عرب امارات کسی بھی طرح سے اس سلسلہ میں کوئی ادا نہیں کررہا ہے۔ ترکی کے ایک چیانل کو انٹرویو دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات افغانستان میں امن مذاکرات میں زیادہ دلچسپی لینے کے بجائے پاکستان اور ہندوستان کے مابین امن مذاکرات کے خفیہ دور میں سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اس وقت کوئی امن مذاکرات نہیں کر رہے ہیں اور متحدہ عرب امارات کسی بھی طرح کے سہولت کار کا کردار ادا نہیں کررہا۔دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق شاہ محمود قریشی پاکستان، ترکی اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے دو روزہ سرکاری دورے پر جمعہ کو استنبول پہنچے ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہوں نے “ثالثی کے کردار” کے بارے میں کہانیاں دیکھی ہیں لیکن ایسا ہو نہیں رہا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایک دوست ملک ہے اور اس کے پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، تمام دوست ممالک مستقل یہ کہتے رہے ہیں کہ ایٹمی طاقت کے حامل دونوں ملکوں کو جنگ کی راہ نہیں اپنانی چاہیے اور مسائل کے حل کے لیے آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ مذاکرات ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا لیکن ہندوستان پیچھے ہٹا ہے اور اس نے اس طرح کے کئی اقدامات اٹھائے جس سے ماحول خراب ہوا ۔انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان پاکستان کو یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ وہ بات کرنے پر راضی ہے تو پھر اسے ‘سازگار ماحول’ بنانا ہو گا جسے اس نے 5 اگست 2019 کو بنایا تھا۔
