نئی دہلی۔امریکہ کی ثالثی اور مداخلت سے یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے حالیہ معاہدے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر اور مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی اور آل انڈیا مسلم اتحاد فرنٹ کے چیرمین یونس صدیقی نے اپنے مشترکہ صحافتی بیان میں کہا ہے یہ عالم اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ ہے ۔انہوں نے دعوی کیا کہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے دباؤ میں آکر امارات اور اسرائیل کے درمیان دو طرفہ سیاسی اور سفارتی تعلقات کو بحال کرنے کا معاہدہ ، نہ صرف فلسطین کیساتھ، بلکہ عرب ممالک اور پوری مسلم دنیا سے دغا و فریب ہے ۔ ٹرمپ اور ان کی پارٹی نے امارات ۔اسرائیل معاہدہ اس مقصد کیلئے کرایا ہے ، تاکہ آئندہ صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوسکے۔ عرب و مسلم دنیا کی حمایت حاصل کرکے دوبارہ بر سر اقتدار آنے کی راہ ہموار ہوسکے۔ دونوں ملی رہنماؤں نے کہا کہ امارات یا کسی بھی عرب یا مسلم ملک کو اسرائیل کیساتھ سیاسی دوستی کا آغاز کرنے یا دو طرفہ تعلقات بحال کرنے سے پہلے ناجائز یہودی ریاست اسرائیل پر یہ دباؤ بنانا چاہئے کہ وہ نہ صرف فلسطینیوں پر مظالم و مصائب کا سلسلہ فوری طور پر بند کردے بلکہ مسجد اقصی کیساتھ فلسطین کے ان مقبوضہ علاقوں کو بھی غیر مشروط طور پر تخلیہ کردے ، جہاں اس کی افوج نے بزور طاقت قبضہ کرلیا ہے اور فلسطینیوں کا جینا دوبھر کردیاہے ۔ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ ان فلسطینی پناہ گزینوں، خانہ بدوشوں اور مہاجرین کی وطن واپسی کو بھی یقینی بنائے جو اسرائیلی افواج کے مظالم سے تنگ آکر در در کی ٹھوکر یں کھا رہے ہیں ۔ انھوں نے زور دیا کہ اسرائیل کو یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں حقوق انسانی کی بحالی پر توجہ دے گا ااور اپنی افواج کو حکم دے گا کہ وہ مستقبل میں فلسطینیوں پر مشق ستم کرنا بند کرے گا۔