ابوظٖہبی: متحدہ عرب امارات 15 اپریل (آج) سے وفاقی پرسنل اسٹیٹس قانون میں تبدیلیوں کا اطلاق کررہا ہے۔خلیج ٹائمز کو دستیاب نئے قانون کی نقل میں پہلی بار ان معاملات کو ریگولیٹ کرنے کی دفعات متعارف کرائی گئی ہیں۔اماراتی حکومت کے مطابق نئے قانون کی دفعات لچک، طریقہ کار کو آسان بنانے ، تصورات اور قانونی مدتوں کو یکجا کرنے کی خصوصیت کی حامل ہیں۔ جیسا کہ جنوری میں خلیج ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا، وفاقی قانون میں شادی کی رضامندی، تحویل کی عمر کی حد اور طلاق کے طریقہ کار کے بارے میں قواعد شامل ہیں۔نئے قانون کے مطابق خواتین اپنی پسند کے شریک حیات سے شادی کر سکتی ہیں، بھلے ہی ان کے سرپرست انکار کر دیں، غیر شہری مسلم خواتین کیلئے یہ قانون واضح کرتا ہے کہ اگر ان کی شہریت کے قانون میں شادی کیلئے سرپرست ہونا ضروری نہیں ہے تو ان کی شادی کیلئے بھی سرپرست کی رضامندی کی ضرورت نہیں۔ حکم نامے میں کہا گیا ہیکہ شادی کی قانونی عمر 18سال ہے، اگر 18سال سے زائد عمرکا کوئی شخص شادی کرنا چاہتا ہے ، لیکن اسے اپنے سرپرست کی جانب سے انکار کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اسے جج کے پاس اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔ قانون ان جوڑوں کو بھی بااختیار بناتا ہے ، جو ایسی عمر تک نہیں پہنچے کہ وہ قانونی سرپرست یا نگہبان کی ضرورت کے بغیر اپنی شادی سے متعلق معاملات کو آزادانہ طور پر منظم کرسکتے ہیں۔اگر خاتون اور شادی کے خواہشمند مرد کے درمیان عمر کا فرق تیس (30) سال سے زیادہ ہو، تو شادی صرف عدالت کی اجازت سے ہی کی جا سکتی ہے۔