ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ کے مقدمات سے متعلق عدالت نے فیصلہ سنایا ۔ بھائی افضل انصاری ایم پی کو بھی چار سال سزا
غازی پور:اتر پردیش غازی پور کی ایک ایم پی ایم ایل اے کی عدالت نے آج جیل میں قید گینگسٹر سے سیاستداں بنے مختار انصاری کو بی جے پی ایم ایل اے کرشنانند رائے کے قتل سے متعلق اغوا اور قتل کیس میں خاطی قرار دیا اور 10 سال قید کی سزا سنائی۔عدالت نے انصاری پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا۔مختار انصاری ویڈیو کانفرنس کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے ۔ اڈیشنل سیشن جج فرسٹ/ایم پی-ایم ایل اے کی عدالت میں ایم پی افضل انصاری اور مختار انصاری کے خلاف 15 سال پرانے غنڈہ گردی کیس میں فیصلہ سنایا ۔ کیس میں مختار انصاری کو دس سال قید اور پانچ لاکھ جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدالت نے رکن پارلیمنٹ افضل کو بھی مجرم قرار دیتے ہوئے چار سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی۔گینگسٹر معاملے میں، پولیس نے 29 نومبر 2005 کو باسانیہ گاوں کے سامنے اس وقت کے بی جے پی ایم ایل اے کرشنانند رائے، اس کے گنر سمیت سات لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا مقدمہ بھی بنایا تھا۔ اس کے علاوہ کوئلہ تاجر نند کشور رنگٹا اغوا کیس بھی شامل تھا تاہم ان دونوں کیسوں میں انصاری برادران کو بری کر دیا گیا ۔ عدالت کے فیصلے پر عوام میں کافی تجسس تھا ۔ سیکورٹی انتظامات کے حوالے سے انتظامیہ مکمل الرٹ موڈ میں ہے۔ ایس پی آفس کے قریب بیریکیڈنگ کی گئی تھی ۔ 22 نومبر 2007 کو محمد آباد پولیس نے ممبران پارلیمنٹ افضل انصاری اور مختار انصاری کے خلاف گینگ بند ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جس میں گینگ چارٹ میں بھنورکول اور وارانسی کیس بھی شامل ہے۔ اس میں ایم پی افضل انصاری ضمانت پر ہیں۔ 23 ستمبر 2022 کو ایم پی افضل انصاری اور مختار انصاری کے خلاف عدالت میں پہلی بار الزامات عائد کیے گئے ہیں۔استغاثہ سے شواہد مکمل ہونے کے بعد دلائل کا اختتام ہوا۔ عدالت نے فیصلے کیلئے 15 اپریل کی تاریخ مقرر کی تھی تاہم فیصلہ نہ آسکا۔ فیصلہ کی تاریخ ہفتہ یعنی آج مقرر کی گئی تھی۔
