نصف گھنٹہ تک ووٹنگ کا عمل ہوا متاثر‘65تا75فیصد ووٹنگ
ئلھنؤ:ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں بلدی انتخاب ہو رہے ہیں اور پہلے مرحلہ میں آج 37 ضلعوں میں ووٹنگ ہوئی۔ الگ الگ ضلعوں میں 65 فیصد سے لے کر 75 فیصد تک ووٹ ڈالے گئے۔ اس دوران کچھ مقاما ت پر کئی طرح کے الزامات کے درمیان ہنگامہ بھی ہوا۔ امروہہ ضلع میں برقع میں ووٹ ڈالنے پہنچی مسلم خواتین کے برقعے اتروانے کے معاملے پر بی جے پی اور بی ایس پی حامیوں میں تنازعہ ہو گیا۔ اس دوران پتھراؤ بھی ہوا اور نصف گھنٹے تک ووٹنگ کا عمل متاثر رہا۔ پریاگ راج، سہارنپور میں بھی برقع کو لے کر کچھ شکایتیں ملیں۔آج ہوئے انتخاب میں اتر پردیش کے 10 میونسپل کارپوریشن کے لیے بھی ووٹ ڈالے گئے۔ اس میں صبح 7 بجے سے شام 6 بجے تک ووٹنگ ہوئی۔ ان ضلعوں میں 7592 عہدوں کے لیے 44226 امیدوار میدان میں تھے۔ اس دوران 388 بلدیوں میں ووٹنگ ہوئی جہاں 12770963 مردوں اور 11236680 خواتین کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا تھا۔ پہلے مرحلہ میں سہارنپور، مراد آباد، رامپور، امروہہ، سنبھل اور بجنور جیسے ضلعوں میں آج ووٹ ڈالے گئے۔ ایک بے حد خوش کن بات بھی دیکھنے میں آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ الیکشن میں ووٹروں نے پولرائزیشن اور فرقہ پرستی کو درکنار کیا ہے۔ اس بار بی جے پی نے بہت سے مسلم امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا ہے، اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ مسلم سماج کا اس پر کیسا رد عمل ہوگا۔ حالانکہ اس انتخاب میں مقامی مسائل ہی حاوی رہنے والے ہیں۔بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں ووٹنگ کا دوسرا مرحلہ 11 مئی کو ہونا ہے جبکہ 13 مئی کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔
