یو پی سے 40,000 ہندو مہاجرین کی فہرست مرکز کو روانہ

   

مظفر نگر، رامپور، علی گڑھ، پیلی بھیت میں ہزاروں افراد شہریت کے منتظر

لکھنؤ13جنوری(سیاست ڈاٹ کام )پارلیمنٹ سے شہریت (ترمیمی)قانون کے پاس ہونے کے بعد ملک میں اس متنازع کو قانون کو نافذ کرنے والا اترپردیش پہلا صوبہ ہوگا۔اطلاعات کے مطابق ریاستی حکومت نے 19 اضلاع میں رہ رہے ہندو پناہ گزینوں کی فہرست بھیج دی ہے ۔پیر کو یہاں ذرائع نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے پاکستان،افغانستان اور بنگلہ دیش سے آکر ریاست کے 19 اضلاع میں رہنے والے ہندو پناہ گزینوں کی فہرست گذشتہ ہفتے مرکزی وزیر داخلہ کو بھیج دیا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ یو پی کے 19 اضلاع میں رہنے والے 40000غیر مسلم غیر قانونی مہاجرین کی لسٹ تیار کر کے مرکز کی بھیجی گئی ہے ان اضلاع کے نام آگرہ،رائے بریلی، سہانپور،گورکھپور،علی گڑھ،رامپور،مظفر نگر، ہاپوڑ، متھرا، کانپور، پرتاپ گڑھ، وارانسی، امیٹھی، جھانسی، بہرائچ، لکھیم پور کھیری،لکھنؤ،میرٹھ اور پیلی بھیت شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق ان میں سے صرف پیلی بھیت سے 30 تا 35 ہزار مہاجرین کے نام ہیں۔ مہاجرین پر مشتمل رپورٹ ، ہر ضلع سے ان کی کی تفصیل اور کچھ افرادکی گواہی پر مبنی ہے جسے محکمہ داخلہ اور وزیر اعلی کے دفتر میں جمع کیا گیا ہے ۔ لسٹ میں ان مہاجرین کے ان مشکلات اور دقتوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جن کا انہیں افغانستان،پاکستان اور بنگلہ دیش میں سامنا کرنا پڑا۔گذشتہ ہفتے ریاستی محکمہ داخلہ نے تمام اضلاع کے ڈی ایم سے پاکستان،بنگلہ دیش اور افغانستان سے آئے مہاجرین کی شناخت کر کے اس ضمن میں حکومت کو فہرست سونپنے کی ہدایت دی تھی۔ مرکز کے زیر انتظام لداخ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وہاں کرگل میں برف باری کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے اتوار کی صبح سے جاری ہے ۔ کرگل کے میدانی علاقوں میں قریب پانچ سے چھ انچ برف کھڑی ہوچکی ہے جبکہ بالائی حصوں میں زائد از ڈیڑھ فٹ جمع کھڑی ہوئی ہے ۔بھاری برف باری کی وجہ سے وادی کشمیر کا بیرون دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ منقطع ہوگیا ہے ۔ سری نگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پیر کو برف باری اور کم روشنی کے سبب فضائی ٹریفک مسلسل دوسرے دن بھی معطل رہا۔ایئر پورٹ میں تعینات ایک افسر نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ کم روشنی اور رن وے پر برف جمع ہوجانے کی وجہ سے فضائی سروس کو معطل کیا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ برف باری رکنے اور رن وے پر سے برف ہٹانے کے ساتھ ہی خدمات کو بحال کیا جائے گا۔وادی میں پیر کے روز شمالی کشمیر کے بارہمولہ سے جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل خدمات بھی معطل کردی گئیں۔ کشمیر میں تعینات شمالی ریلویز کے چیف ایئریا منیجر وپن پروہت نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ بھاری برف باری کی وجہ سے بارہمولہ تا بانہال ریل خدمات کو معطل رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ برف باری کا سلسلہ رکنے اور ریل پٹریوں پر سے برف ہٹانے کے بعد ریل خدمات کو بحال کیا جائے گا۔