پرینکا اوراکھلیش کی ریلیوں میں عوام کی زیادہ بھیڑ سے بی جے پی بوکھلاہٹ کا شکار
لکھنو:ا تر پردیش میں اس مرتبہ اسمبلی انتخابات کیلئے مہم انتخابی تواریخ سے بہت پہلے ہی شروع ہوگئی ہے اور تمام جماعتوں کے اہم قائدین اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ۔ریاست میں عام آدمی کی مشکلات اور جرائم میں اضافہ نے لوگوں کو کافی پریشان کیا ہوا ہے ۔عام خیال یہ ہے کہ لوگ حکومت کے کاموں سے مایوس ہورہے ہیں جو بی جے پی کی یوگی حکومت کیلئے لمحہ فکر ہے۔شاید اسی لئے ریاست میں ہونے والے وزیر اعظم کے پروگراموں میں لوگوں کی بھیڑ جمع کرنے کے لیے بی جے پی کو جس طرح مشقت کرنی پڑ رہی ہے، اسے لوگوں میں بیٹھے غصے سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم کے اجلاس میں منریگا مزدوروں اور اسکولی بچوں کی بھیڑ جمع کی جا رہی ہے۔ ویسے اسکولی بچوں کو تو ان کے اجلاس میں دیکھا جا سکتا ہے جو یونیفارم میں ہوتے ہیں۔ پھر بھی کرسیاں خالی رہتی ہیں اور وزیر اعظم کے خطاب کے دوران لوگوں کو اٹھ کر باہر جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔وارانسی میں پرینکا گاندھی واڈرا کی گزشتہ ریالی میں ایک لاکھ کی بھیڑ جمع ہوئی، جب کہ اکھلیش یادو آدھی آدھی رات کے بعد بھی ریلیاں کر رہے ہیں اور پھر بھی ان میں بڑی تعداد میں لوگ موجود رہتے ہیں۔ وزیر اعظم اس بار بھی مذہب کو بی جے پی کی انتخابی مہم کا مرکز بناتے ہوئے ’ہندو کارڈ‘ کھیل رہے ہیں لیکن یہ کتنا کارگر رہے گا، اس پر شبہ ہے۔ ویسے سبھی یہ تصور کر رہے ہیں کہ تقریباً پانچ سال کی بدانتظامی کے بعد بی جے پی کے سامنے ’جاگو ہندو‘ ہی واحد کارڈ بچ گیا تھا۔ لوگ یہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ ووٹنگ سے قبل بی جے پی کی جھولی سے کافی کچھ باہر آنے والا ہے۔ ہو سکتا ہے کسی عوامی پروگرام کا اعلان ہو جائے۔ کہیں فساد کا اندیشہ سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اومیکرون کی آڑ میں اپوزیشن کے پروگراموں پر قدغن بھی لگایا جا سکتا ہے۔حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے وارانسی میں وشواناتھ مندر کے نوتعمیر احاطہ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر کوریج کیسے کیا گیا، اس پر غور کریں۔ پرسار بھارتی کے سی ای او ششی شیکھر ویمپتی نے مودی کے اس دورہ کے لیے 55 کیمرہ، 7 سیٹلائٹ اَپ لنک وین، تمام ڈرون سے لے کر کرین کی مدد سے اِدھر سے اْدھر کیے جانے والے بھاری بھرکم ’جمی جبس‘ کیمرہ سسٹم کا بھی انتظام کیا۔ ٹیلی پرامپٹر سہولت تو تھی ہی۔بیشتر ٹیلی ویژن چینلوں نے تقریب کو لائیو کور کیا اور اس لمحہ کو ’تاریخی‘ قرار دیتے ہوئے تعریف کے پل باندھ ڈالے کہ کس طرح 800 کروڑ خرچ کر کے مندر کا نقشہ بدلا گیا۔ اس موقع پر 12 ریاستوں کے بی جے پی وزیر اعلیٰ جمع ہوئے اور اس کے بعد سبھی ایودھیا کے لیے روانہ ہو گئے۔