ضلع اوریا میں دو ٹرکوں کے تصادم میں 40دیگر زخمی ، پی ایم او کی جانب سے ایکس گریشیا کا اعلان
اوریا(یو پی) :16مئی(سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے ضلع اوریا کے کوتوالی صدر علاقے میں آج علی الصبح دو ٹرک آپس میں ٹکرا گئے ۔ اس حادثے میں 25مزدوروں کی موت ہوگئی جبکہ دیگر 40شدید طورسے زخمی ہوگئے ۔جن میں سے 15 کی حالت کافی نازک ہے ۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ابھیشیک سنگھ نے بتایا کہ رات دیر گئے تقربیا 3بجے یہ حادثہ چروہلی۔مہول گاؤں کے درمیان پیش آیا۔جب ایک چونا بردارٹرک نے سڑک کنارے کھڑے ایک منی ٹرک کو ٹکر مار دی اور دونوں ٹرک سڑک کے کنارے کھائی میں پلٹ گئے ۔جس سے اس میں سوار مزدور چونے کی بوریوں کے نیچے دب گئے ۔دونوں ٹرکوں میں تقریبا 70مزدور سوار تھے ۔اس حادثے میں 25مزدوروں کی برسرموقع موت ہوگئی جبکہ شدید زخمی 15مزدوروں کو سیفئی میڈیکل یونیورسٹی بھیج دیا گیا۔ دیگر 20کا علاج اوریا ضلع اسپتال میں جاری ہے ۔ مہلوکین اور زخمیوں میں سے زیادہ تر کی شناخت کرلی گئی ہے ۔کئی مزدور اپنے کنبے کے ساتھ سفر کررہے تھے ۔متاثرین کے اہل خانہ کو مطلع کیا جارہا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ مزدور بہار، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کے رہنے والے ہیں اور دہلی و راجستھا ن کے بھرت پور سے واپس اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے ۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ابھیشیک سنگھ اور ایس پی سنیت نے موقع پر پہنچ کر راحت رسانی کے کام شروع کرائے ۔کئی کرینوں کی مدد سے ٹرالی اور ڈی سی ایم میں پھنسے مزدوروں کو نکال کر ایمبولنس سے ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا۔چیف میڈیکل آفیسر(سی ایم او) ڈاکٹر ارچان سریواستو نے تصدیق کی کہ 25مزدور مردہ خانہ لائے گئے تھے جبکہ 40زخمیوں میں سے 15 کی حالت کافی نازک تھی جنہیں سیفئی میڈیکل پی جی آئی بھیجا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ مائیگرینٹ مزدور راجستھان سے بہار، مغربی بنگال اور جھارکھند جارہے تھے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ حادثے میں مائیگرینٹ مزدوروں کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کی ہر ممکن مددکے احکامات جاری کئے ہیں۔انہوں نے کمشنر کانپور اور آئی جی کانپور کو فورا موقع پر پہنچ کر راحت رسانی کے کام اپنی نگرانی میں کرانے اور حادثے کی وجوہات کی جانچ کرکے اس کی رپورٹ دستیا ب کرانے کے ہدایات دئیے ہیں۔ریاستی حکومت نے مہلوکین کے اہل خانہ کے لئے 2۔2لاکھ روپئے اور زخمیوں کے لئے 50۔50ہزار روپئے مالی تعاون دینے کا اعلان کیا ہے ۔ اس دوران صدرجمہوریہ رامناتھ ، وزیراعظم نریندر مودی ، صدر کانگریس سونیا گاندھی و دیگر کئی قائدین نے اس سانحہ پر دکھ کا اظہار کیا ۔ نئی دہلی کے دفتر وزیراعظم نے مہلوکین کے لواحقین کیلئے پی ایمس نیشنل ریلیف فنڈ سے فی کس 2 لاکھ روپئے کے ایکس گریشیا ء کی ادائیگی کا اعلان کیا ۔ زخمیوں کو فی کس 50 ہزار روپئے دیئے جائیں گے ۔
آفیشیل ذرائع نے بتایاکہ اس حادثے کے بعد دو ایس ایچ او ایک اوریا اور دوسرے اٹاوہ کو معطل کردیا گیا ہے ۔ان پر الزام ہے کہ یہی لوگ ان مہاجر مزدوروں کو ٹرک سے سفر کرنے سے نہ روکنے کے ذمہ دار ہیں ۔اس کے علاوہ آگرہ کے اے ڈی جی اور آئی جی کے ساتھ آگرہ و متھرا کے ایس ایس پی سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ کس طرح ان کے علاقے میں ٹرک ان مہاجر مزدوروں کو لے جارہے تھے ۔وہیں دوسرے سیاسی رہنماؤں نے بھی اس حادثے پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے اہل خانہ کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔سماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو اور بہوجن سماج پارٹی سپریمو مایاوتی نے اپنے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے مہلوکین کے لئے حکومت سے مناسب معاوضہ کا مطالبہ کیا ہے ۔ایس پی سربراہ نے اپنے ٹوئٹ میں لاپرواہی کے لئے یوگی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے مہلوکین کے اہل خانہ کو دس ۔دس لاکھ روپئے امداد کے طور پر دینے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ریاستی حکومت کی جانب سے مہاجر مزدوروں کا قتل ہے ۔انہوں نے پارٹی کی جانب سے مہلوکین کو ایک۔ایک لاکھ روپئے مالی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے بھی اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے حادثے کے لئے بی جے پی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایاوہیں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا اور ان کے بھائی راہل گاندھی نے بھی مزدوروں کی موت پر گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے غیر محفوظ طریقے سے مہاجر مزدوروں کے سفر کرنے پر پابند ی عائد کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگاتے ہوئے یوپی حکومت کی تنقید کی۔