جنوبی ہند سے کوئی نمائندگی نہیں، وسیع تر مشاورت کی ضرورت
حیدرآباد۔/3 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ پلاننگ بورڈ کے نائب صدرنشین بی ونود کمار نے کہا کہ بی آر ایس لوک سبھا اور اسمبلیوں کے یکساں انتخابات کو بہتر تصور کرتی ہے لیکن اس مسئلہ پر وسیع تر مذاکرات کی ضرورت ہے۔ ونود کمار نے یکساں انتخابات کے مسئلہ پر سابق صدر جمہوریہ رامناتھ کووند کی قیادت میں کمیٹی کی تشکیل پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ کمیٹی کے ارکان میں شمالی ہند سے تعلق رکھنے والوں کو شامل کیا گیا ہے جبکہ جنوبی ہند سے کسی کو نمائندگی نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت نے یکساں انتخابات پر رپورٹ تیار کرلی ہے اور رامناتھ کووند کی کمیٹی محض برائے نام رہے گی اور تیار شدہ رپورٹ پیش کردے گی۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر جمہوریہ کی قیادت میں کمیٹی کی تشکیل کا مقصد دستوری عہدہ پر فائز شخص کو ذمہ داری کا اظہار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کے تحت دونوں تلگو ریاستوں کی اسمبلی نشستوں کی تعداد میں اضافہ باقی ہے لیکن اس بارے میں ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے 2018 میں یکساں انتخابات پر اپنا موقف واضح کردیا تھا جس میں لاء کمیشن سے کہا گیا تھا کہ اس مسئلہ پر وسیع تر مشاورت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکساں انتخابات کیلئے دستور میں پانچ ترمیمات کی ضرورت پڑے گی۔ خواتین تحفظات بل پر مرکزی حکومت کا موقف ابھی تک واضح نہیں ہے۔