نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کا کہنا ہے کہ 6 جولائی 2023 یکساں سول کوڈ کی بحث کو ازسر نو اٹھائے جانے کو ہم سیاسی سازش کا حصہ سمجھتے ہیں ، یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ تمام ہندوستانیوں کا ہے، ہماراشروع سے یہ موقف رہاہے کہ ہم تیرہ سوسال سے اس ملک میں اپنے مذہب پر آزادی کے ساتھ عمل کرتے آئے ہیں۔ حکومتیں آتی جاتی رہیں لیکن ہندوستانی اپنے مذہب پر مرتا جیتا رہا۔ اس لئے ہم کسی بھی صورت میں اپنے مذہبی معاملات اورعبادات کے طورطریقہ سے سمجھوتا نہیں کریں گے اورہم قانون کے دائرہ میں رہ کر اپنے مذہبی حقوق کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے ۔ یکساں سول کوڈ پر اصرار آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے ۔ سوال مسلمانوں کے پرسنل لاء کا نہیں بلکہ ملک کے سیکولر آئین کو اپنی حالت پر باقی رکھنے کا ہے، ہماراپرسنل لاء قرآن وسنت پر مبنی ہے جس میں قیامت تک کوئی ترمیم نہیں ہوسکتی ، ایساکہہ کر ہم کوئی غیر آئینی بات نہیں کررہے ہیں ، بلکہ سیکولر آئین کی دفعہ 25 نے ہمیں اس کی آزادی دی ہے، یکساں سول کوڈمسلمانوں کے لئے ناقابل قبول ہے اورملک کی یکجہتی اورسالمیت کے لئے نقصاندہ ہےجمعیۃ علماء ہند کی جانب سے لا کمیشن آف انڈیا کو بھیجے گئے ڈرافٹ میں کہا گیا، کہ یونیفارم سول کوڈشروع سے ہی ایک متنازعہ مسئلہ رہا ہے، ہمارا ملک صدیوں سے کثرت میں وحد ت کا مظہر رہا ہے جس میں مختلف مذہبی و سماجی طبقات اور قبائل کے لوگ اپنے مذہب کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے امن و یکجہتی کے ساتھ رہتے آئے ہیں،سب کو نہ صرف مذہبی آزادی حاصل رہی ہے بلکہ بہت سی چیزوں میں عدم یکسانیت کے باوجود ان میں نہ تو کبھی کوئی اختلاف پیدا ہوا اور نہ ہی ان میں سے کسی نے دوسرے کے مذہبی عقائد اور رسم ورواج پر کبھی کوئی اعتراض کیا۔