یکساں سول کوڈ معاملہ : تمام مذاہب کے ماننے والوں کا احترام لازمی,امیر شریعت کرناٹک سے ملاقات کے دوران کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا کا اعلان

   

یکساں سول کوڈ معاملہ : تمام مذاہب کے ماننے والوں کا احترام لازمی

امیر شریعت کرناٹک سے ملاقات کے دوران کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا کا اعلان

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے امیر شریعت مولانا صغیر احمد رشادی نے یو سی سی کے خلاف وزیر اعلیٰ کو میمورنڈم پیش کیا

بنگلور : ریاست کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور پہنچ کر امیر شریعت کرناٹک حضرت مولانا صغیر احمد رشادی صاحب (رکن عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) اور دیگر علماء کرام سے ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا- اس ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ کے سامنے امیر شریعت کرناٹک نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی معرفت سے مسلمانوں کو درپیش مختلف مسائل رکھے اور ان کا حل کرنے کیلئے مناسب اقدامات کی گزارش کی- خاص طور پر مرکزی حکومت کی طرف سے یکساں سول کوڈ لانے کی تیاری کو لے کر امیر شریعت کی طرف سے ظاہر کی گئی تشویش پر وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ کرناٹک کی کانگریس حکومت اس بات کی پابند ہیکہ ہر مذہب کے ماننے والوں کا احترام کیا جائے اور ان کے جذبات کو کسی بھی حال میں مجروح ہونے نہ دیا جائے- اس ملک کے آئین کی دفعہ 25 کے تحت ملک کے ہر شہری کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کا مذہب اپنائے- کسی شہری پر کسی مخصوص مذہب کی تعلیمات پر عمل کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا- حکومت کرناٹک اس آئینی تقاضے کو پورا کرنے کی پابند رہے گی- اس موقع پر امیر شریعت نے وزیر اعلیٰ کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے یونیفارم سول کوڈ کے خلاف ایک میمورنڈم بھی پیش کیا- قابل ذکر ہیکہ اس ملاقات کے موقع پر جامع مسجد بنگلور کے امام و خطیب مولانا محمد مقصود عمران رشادی، ریاستی وزیر برائے ہاؤزنگ اقلیتی بہبود و اوقاف بی زیڈ ضمیر احمد خان، وزیر برائے توانائی کے جے جارج، وزیر برائے بلدی انتظامیہ و حج رحیم خان، وزیر اعلیٰ کے سیاسی سکریٹری نصیر احمد، اے آئی سی سی سکریٹری منصور علی خان، کے پی سی سی کے کارگزار صدر سلیم احمد، رکن اسمبلی رضوان ارشد، رکن کونسل عبد الجبار وغیرہ خصوصی طور پر شریک تھے-