شہریوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے کی کوشش تشویشناک ، چینائی اجلاس عام میں آل انڈیا ملی کونسل کی اہم قراردادیں
گلبرگہ 18جنوری : ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز )چینائی تاملناڈو کے بی ایم کنونشن ہال میں 13تا 15جنوری کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئے آل انڈیا ملی کونسل کے 22ویں سالانہ اجلاس میں ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں مسلمانوں کو درپیش چیالینجس اور ملی مسائل کے پیش نظر کئی اہم فیصلے اور قراردادیں منظور کی گئیں ۔ جو اس طرح ہیں :(1ملک میںفرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والی سازشوںکو ناکام بنائیں ۔ یہ قرار داد ملک کے تمام انصاف پسندوں اور جمہوریت و آئینی اقدار پر یقین رکھنے والوں کو آواز دیتی ہے کہ وہ اس ملک کی تہذیبی وراثت کے تحفظ اور بھائی چارہ کے جذبہ کو قوت و توانائی بخشیں ۔ (2یکساں سیول کوڈ کے غیر دستوری طور پر نفاذ کی مرکز اور بعض ریاستوں میں کوششوںپر تشویش ظاہر کی گئی ۔اس ضمن میںآل انڈیا ملی کونسل کا اجلاس تمام مذاہب کے پیشوائوں سے بالخصوص اکثریتی عوام سے اپیل کرتا ہے کہ وہ یکساں سیول کوڈ کے خلاف متحد ہوکر کھڑے ہوجائیں ، کیوںکہ یکساں سیول کوڈ کے نفاذ سے انھیں شدید نقصان پہنچنے والا ہے ۔ اورا ن کی تہذیب اور ان کے رسم و رواج سب ختم ہوجائیں گے ۔ (3گیان واپی مسجد و متھرا شاہی عید گاہ اور دیگر مساجد سے متعلق عدالتی کاروائی تشویش ناک ہے ۔یہ اجلاس مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ Place of worship act 1991 کے تحت تمام مسجدوں سے متعلق معاملات کو حسب فیصلہ بحال کیا جائے ۔ اور 1947کو بھی جو عبادت گاہیںجس شکل میںموجود تھیں ان کی مذہبی شناخت کو تبدیل نہیںکیا جاسکتا ۔(4غیر جمہوری طور پر قانون سازی کے ذریعہ شہریوں کے بنیادی حقوق تلف کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ گاؤکشی ایکٹ ، تبدیلیء مذہب ، UAPAقانون دستور کے خلاف اور مسلمانوں کے لئے ناقابل قبول ہے۔(5تجاوزات کے نام پر شہریوں بالخصوص اقلیتوں کو بے دخل کرنے کی سازش کی جارہی ہے ، ترقی اور دیگر منصوبوں کے نام پر مسلمانوں اور اقلیتوں کو گھروں سے بے دخل کرنے کی کاروائیاں تسلسل کے ساتھ انجام دی جارہی ہیں ۔حکومت میں ہر شہری کو گھر دینے کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف شہریوں کے گھروں کو توڑ کر انھیں بے گھر کررہی ہے۔ AIMCکا مطالبہ ہے کہ یہ کاروائیاں بند کی جائیں ۔(6 مدارس اسلامیہ اسلام کے قلعے اور انسانیت کے محافظ ہیں ۔ آسام میں مدارس کا انہدام اور اتر پردیش میں دیگر مذہبی تعلیم گاہوں کے بجائے صرف مدارس اسلامیہ میں سروے کی مہم چلائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ان مدارس کے نصاب پر بھی سوالات کھڑے کئے جاتے رہے ہیں ۔ آل انڈی ملی کونسل حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ مدارس اسلامیہ کے ساتھ اس نامناسب رویہ کو ختم کیا جائے ۔ مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران سے اپیل کی جاتی ہے وہ اپنی ضروری قانونی دستاویزات کو درست رکھیں ۔(7 پہلی تا آٹھویںجماعت پری میٹرک اسکالر شپ اور مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ کوانڈیااملی کونسل دوبارہ جاری کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔(8برادران وطن کے ساتھ اتحاد و قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔(9حجاب اسلامی تعلیمات کا ایک حصہ ہے۔ اس سے دست برداری مسلم خواتین کے لئے ناممکن ہے ۔ اس طرح کی کاروائیوں پر فوری روک لگائی جائے ۔ مذہبی آزادی میں رائے کی آزادی اور حقوق انسانی بھی شامل ہیں ۔ مولانا عبدالحکیم مغیشی صدر آل انڈیا ملی کونسل کے صدارتی خطاب و دعا کے بعدیہ سہ روزہ 15,14,13 جنوری کااجلاس عام چنائی تاملناڈو میںاختتام پذیر ہوا ۔ڈاکٹر منظور عالم جنرل سیکریٹری نے تمام اراکین کی تجاویز اور مشوروں کی سماعت فرماتے ہوئے ان پر غور کرنے کا تیقن دیا اور سب ہی کو متحد ہوکر ان قراردادوں پر عمل کرنے کی گزارش کی ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی قومی نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل و جنرل سیکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی ان اجلاسوںمیںشریک ہوکر اپنے مفید مشورے دئے اور نصیحت آمیز خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے ہر ممکنہ کوشش کرنے کی اپیل کی ۔ مولانا انیس الرحمٰن قاسمی اور مولانا عبدالعلیم قاسمی نائب صدر نے بھی ان اجلاسوں سے خطاب کیا ۔ ڈاکٹر محمد اصغر چلبل سیکریٹری سیاسی امور آل انڈیا ملی کونسل نے بھی کئی ایک ایجنڈوں میںحصہ لیتے ہوئے اپنی تجاویز پیش کیں ۔مولاناشاہ مصطفی رفاعی اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری نے ملک میں ملی کونسل کے تنظیمی ڈھانچہ کو مضبوط کرنے کے لئے تعاون کی اپیل کی ۔ سلیمان خان اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری نے تمام اجلاسوںکے لئے بحسن و خوبی نظامت کے فرائض انجام دئے ۔ کے حنیف صدر استقبالیہ ،چنائی ، ابن سعود صدر آل انڈیا ملی کونسل تامل ناڈو ، ایڈوکیٹ منیر شریف نائب صدر تاملناڈو و مدرسہ اشرفیہ نے تما م مہمانان کا استقبال کیا اور شکریہ ادا کیا ۔