ہندوستانی سماج میں بتدریج یکسانیت ۔ نوجوانوں کو شادی ، طلاق جیسے امور میں متضاد پرسنل لا کا شکار نہ بنایا جائے : دہلی ہائیکورٹ
نئی دہلی : یکساں سیول کوڈ متعارف کرانے کی حمایت کرتے ہوئے دہلی ہائیکورٹ نے کہا ہیکہ ہندوستانی نوجوانوں کو شادی اور طلاق سے متعلق مختلف عائلی قوانین میں جھگڑوں کے سبب پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہئے۔ جسٹس پرتیبھا سنگھ نے اپنے حکمنامہ مورخہ 7 جولائی میں کہا کہ جدید ہندوستانی سماج بتدریج یکساں نوعیت کا بنتا جارہا ہے۔ مذہب، برادری اور ذات پات کی روایتیں رکاوٹیں دھیرے دھیرے معدوم ہورہی ہیں اور اس لئے یونیفارم سیول کوڈ کو یوں ہی محض امید میں نہیں رکھنا چاہئے۔ حکمنامہ میں کہا گیا کہ مختلف برادریوں، قبائل، ذاتوں یا مذاہب سے تعلق رکھنے والے نوجوان جو شادی کرنا چاہیں انہیں مختلف پرسنل لا کے جھگڑوں کے سبب پیدا ہونے والے مسائل کا شکار ہونے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہ مسائل خاص طور پر شادی اور طلاق کے امور میں پیش آتے ہیں۔ حکمنامہ میں یکساں سیول کوڈ کی ضرورت کے بارے میں سپریم کورٹ کے کئی فیصلوں کا حوالہ دیا گیا جن میں 1985 کا تاریخ شاہ بانو کیس شامل ہے۔ ہائیکورٹ نے کہا کہ دستور کے آرٹیکل 44 میں اس امید کا اظہار کیا گیا ہیکہ مملکت اپنے شہریوں کو محفوظ رکھے گی اور اس سلسلہ میں یکساں سیول کوڈ ہمیشہ محض ایک امید بن کر نہیں رہنا چاہئے۔ شاہ بانو کیس میں فاضل عدالت نے کہا تھا کہ مشترک دیوانی ضابطہ متضاد نظریات کے حامل قوانین کو ختم کرتے ہوئے قومی یکجہتی کے کاز میں معاون ثابت ہوگا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ مملکت کی ذمہ داری ہیکہ ملک کے شہریوں کیلئے یکساں سیول کوڈ کو یقینی بنائے۔ ہائیکورٹ نے کہا کہ یکساں سیول کوڈ کی ضرورت کا اعادہ سپریم کورٹ نے وقفہ وقفہ سے کیا ہے۔ تاہم یہ غیرواضح ہیکہ ابھی تک اس ضمن میں کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔ ہائیکورٹ نے ہدایت دی کہ آرڈر کی نقل سکریٹری وزارت قانون و انصاف، حکومت ہند کو ضروری اقدام کیلئے ارسال کی جائے۔ عدالت اس معاملہ کی سنوائی کررہی تھی کہ آیا مینا کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے فریقوں کے درمیان شادی ہندو میریج ایکٹ، 1955ء کے دائرہ سے خارج ہے؟ جب شوہر نے طلاق چاہی تو بیوی نے استدلال پیش کیا کہ ہندو میریج ایکٹ کا ان پر اطلاق نہیں ہوتا ہے کیونکہ مینا کمیونٹی راجستھان میں مسلمہ درج فہرست قبیلہ نہیں ہے۔ عدالت نے بیوی کے موقف کو مسترد کردیا اور کہا کہ اس جیسے معاملوں نے ایسے کوڈ کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے جس کا تمام پر اطلاق ہو اور جو شادی، طلاق، وراثت وغیرہ کے معاملوں میں یکساں اصولوں کے ساتھ لاگو کئے جاسکیں۔ عدالت نے کہا کہ مقدمہ کی شروعات کے بعد سے دونوں فریقوں نے کہا ہیکہ ان کی شادی ہندو رسوم کے مطابق ہوئی اور وہ ہندو رسوم پر عمل پیرا ہیں۔ عدالت نے کہا کہ یہی بات کئی دستاویزات میں ظاہر ہورہی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ہندو کی تشریح نہیں ہے لیکن سپریم کورٹ کا موقف رہا ہیکہ اگر قبیلوں کے ارکان ہندو ہونا چاہے تو ہندو میریج ایکٹ کا ان پر اطلاق ہوگا۔ ہائیکورٹ نے اعادہ کیا کہ اس طرح کے معاملوں نے وقفہ وقفہ سے اجاگر کیا ہیکہ ملک میں سب کیلئے یکساں سیول کوڈ ہونا چاہئے۔