یکساں سیول کوڈ پر اسٹانڈنگ کمیٹی کا آج اجلاس

   

نئی دہلی : بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سشیل مودی کی قیادت میں قانون اور انصاف کی پارلیمانی قائمہ یعنی اسٹانڈنگ کمیٹی نے یکساں سیول کوڈ (یو سی سی) پر غور و خوض شروع کرنے کے لیے 3 جولائی کو ایک اجلاس طلب کیا ہے۔ کمیٹی نے اس موضوع پر 21 ویں لاء کمیشن کے 2018 کے مشاورتی دستاویزات کو اپنے ارکان تک پہنچا دیا ہے جس میںUCC کے خلاف دلیل دی کہ یہ نہ ضروری ہے اور نہ ہی مطلوبہ ہے۔ اجلاس کیلئے محکمہ قانونی امور، قانون سازی کے محکمے اور لاء کمیشن آف انڈیا کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا ہے۔ ‘فیملی لاء میں اصلاحات’ کے عنوان سے مشاورتی دستاویز کو کمیٹی یو سی سی کے خلاف وکالت کرتے ہوئے اپنی بحث کی بنیاد کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اس میںتمام پرسنل لاز کی ضابطہ بندی کے لیے دلیل دی گئی ہے تاکہ ان میں سے ہر ایک کے تعصبات اور دقیانوسی تصورات سامنے آئیں۔

یونیفارم سول کوڈ پر این ڈی اے کی سب ہی پارٹیاں متفق نہیں
گوہاٹی: یونیفارم سول کوڈ کو لیکر اب این ڈی اے اتحاد میں دراڑیں دکھائی دینے لگی ہیں۔ این ڈی اے کی شمال مشرقی ریاستوں کی کئی اتحادی جماعتوں نے اپنا اختلاف ظاہر کیا ہے۔ انہیں خدشہ ہیکہ یو سی سی کی وجہ سے 200 سے زیادہ ثقافتی طور پر متنوع مقامی قبائل کے علاقے میں ان کی آزادی اور حقوق کم ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان کی 12 فیصد سے زیادہ قبائلی آبادی شمال مشرقی ریاستوں میں رہتی ہے۔ میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کونراڈ سنگما نے اپنی نیشنل پیپلز پارٹی کی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ یو سی سی ہندوستان کے حقیقی تصور کے خلاف ہے جبکہ ناگالینڈ میں بی جے پی کی ایک اور اتحادی، حکمراں نیشنلسٹ ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی نے کہا کہ یو سی سی کے نفاذ سے ہندوستان کی اقلیتی برادریوں اور قبائلی لوگوں کو نقصان پہنچے گا۔ آزادی اور حقوق پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ میزورم کی 94 فیصد سے زیادہ قبائلی آبادی ان ریاستوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس نے گذشتہ فروری میں اپنی یو سی سی مخالف پوزیشن کو مضبوط کیا تھا۔ اسمبلی نے متفقہ طور پر یو سی سی کی مخالفت میں ایک سرکاری قرارداد منظور کی۔جمعہ کو میزورم کے وزیر داخلہ لالچملیانا نے کہا کہ اگرچہ پارلیمنٹ کے ذریعہ یو سی سی کو ایک قانون بنایا جائے گا، لیکن میزورم میں اسے اس وقت تک نافذ نہیں کیا جائے گا جب تک ریاستی مقننہ ایک قرارداد کے ذریعے ایسا فیصلہ نہیں لیتی۔ جب کہ آسام میں بی جے پی۔ اتحادی اے جی پی (AGP) منگل کو یو سی سی کے معاملے پر اپنے موقف پر بات چیت کر سکتی ہے۔