مذہبی جذبات کے خلاف فیصلہ نہ کرنے کا تیقن، مسلمان یکساں سیول کوڈ کے بارے میں فکر مند نہ ہوں
حیدرآباد۔/19 جولائی، ( سیاست نیوز) یکساں سیول کوڈ کے مسئلہ پر آندھرا پردیش کی برسراقتدار اور مین اپوزیشن پارٹیوں نے مسلمانوں کو تیقن دیا ہے کہ ان کے مذہبی جذبات کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی اور صدر تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو نے آج علحدہ علحدہ طور پر مسلمانوں کی مذہبی اور سماجی شخصیتوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے تیقن دیا کہ یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کے معاملہ میں مسلمانوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا۔ وائی ایس جگن موہن ریڈی نے مسلم مذہبی رہنماؤں کے ساتھ اجلاس میں یکساں سیول کوڈ پر مسلمانوں کے موقف کی سماعت کی۔ انہوں نے کہا کہ میری حکومت آپ کی حکومت ہے، کمزور طبقات اور اقلیتوں کی حکومت ہے، آپ کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مسلمانوں کو اندیشہ کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میری حکومت آپ کے جذبات کو مجروح کرنے کا کوئی کام نہیں کریگی۔ یکساں سیول کوڈ کے بارے میں مرکز سے ابھی تک کوئی مسودہ جاری نہیں کیا گیا۔ مسودہ میں کیا امور شامل رہیں گے کوئی نہیں جانتا لیکن میڈیا میں اس مسئلہ پر سرگرم مباحث جاری ہیں جس سے متاثر ہوکر مسلمانوں کی مذہبی شخصیتیں فکر مند ہیں۔ جگن نے کہا کہ ایک ریاست کے حکمران اور چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہوتے ہوئے میں اس بارے میں کیا موقف اختیار کروں گا آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے معاملہ میں حکومت سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکساں سیول کوڈ کے بارے میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نمائندوں سے بھی ان کی مشاورت ہوگی۔ انہوں نے تیقن دیا کہ یکساں سیول کوڈ کے مسودہ کا جائزہ لیتے ہوئے وائی ایس آر کانگریس پارٹی اپنا موقف طئے کرے گی۔ اسی دوران صدر تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو نے امراوتی میں علماء و مشائخین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ سابق وزیر این محمد فاروق اور سابق صدرنشین قانون ساز کونسل احمد شریف اور سابق رکن اسمبلی جلیل خاں کے ہمراہ علماء و مشائخین کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں چندرا بابو نائیڈو سے اپیل کی گئی کہ وہ یکساں سیول کوڈ کی مخالفت کریں۔ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق کمیٹی کے نمائندوں نے چندرا بابو نائیڈو کو مسلمانوں کے موقف سے واقف کرایا۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ یکساں سیول کوڈ ملک کی تہذیب کے خلاف ہے۔ ر
