یکساں سیول کوڈ پر قبائیلیوں کو بھی اعتراض

   

صرف مسلمان نہیں ہم بھی متاثر ہوتے ہیں ، لا کمیشن پریو سی سی کا خیال ترک کرنے پر زور

رانچی : جھارکھنڈ میں زـائد از 30 قبائیلی تنظیموں نے فیصلہ کیا ہے کہ لا کمیشن سے نمائندگی کی جائے کہ یکساں سیول کوڈ ( یو سی سی ) کے خیال سے دستبرداری اختیار کی جائے کیونکہ اس سے ملک میں قبائیلی شناخت خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔ انھوں نے لا کمیشن کی جانب سے یو سی سی کے بارے میں تازہ مشاورت کے خلاف ایجی ٹیشن شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا ۔ رانچی میں آدی واسی سمن وائی سمیتی کے بیانر تلے زائد از 30 قبائیلی تنظیموں کے نمائندے جمع ہوئے اور یکساں سیول کوڈ پر غور و خوض کیا ۔ انھوں نے شدید خدشات ظاہر کئے کہ یو سی سی کئی روایتی قبائیلی قوانین اور حقوق کو خطرے میں ڈال سکتا ہے ۔ 22 ویں لا کمیشن آف انڈیا نے 14 جون کو یو سی سی کے بارے میں عوام اور مذہبی تنظیموں کے بشمول مختلف متعالقین سے تازہ تجاویز طلب کئے ۔ اتوار کو منعقدہ میٹنگ میں قبائیلی تنظیموں کے نمائندوں نے فیصلہ کیا کہ لا کمیشن کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے کہا جائے گا کہ یو سی سی کا خیال ترک کردیں کیونکہ یہ ملک بھر میں قبائیلی طبقہ کے لئے ٹھیک نہیں۔ میٹنگ کی روداد سے واقف کراتے ہوئے سمیتی کے رُکن دیو کمار نے کہاکہ قبائیلی تنظیمیں 5 جولائی کو جھارکھنڈ راج بھون کے قریب یوسی سی کے خلاف مظاہرہ کریں گی اور ایک میمورنڈم گورنر کو پیش کیا جائے گا ۔ انھوں نے کہا کہ یکساں سیول کوڈ پر شروع سے ہی مسلمان اعتراض کرتے آئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ قبائیلی برادری بھی اس سے شدید متاثر ہوگی۔ دیوکمار نے کہا کہ قبائیلی قوانین کو ختم کرنے کی سازش معلوم ہوتی ہے اور قبائیلی کمیٹی سے متعلق مختلف قوانین کو بھی خطرح لاحق ہوجائیگا۔ انھوں نے کہاکہ اگر اُن کے مطالبہ پر غور نہیں کیا گیا تو ملک بھر سے قبائیلی افراد نئی دہلی میں بھی مظاہرہ کریں گے ۔