یکساں سیول کوڈ پہلے ہندوؤں پر نافذ کیا جائے: ایم کے اسٹالن

,

   

مندروں میں تمام طبقات کو داخلہ کی اجازت نہیں، ملک میں یکساں سیول کوڈ ناقابل قبول

حیدرآباد ۔28۔ جون (سیاست نیوز) ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی بی جے پی حکومت کی کوششوں کی مختلف گوشوں سے مخالفت کی جارہی ہے ۔ کانگریس کے بعد ٹاملناڈو کی برسر اقتدار ڈی ایم کے نے ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے یکساں سیول کوڈ کی مخالفت کرنے پر کانگریس اور اس کی حلیف جماعتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن نے وزیراعظم نریندر مودی سے کہا کہ ملک میں یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے سے قبل ہندوؤں پر عمل آوری کر کے دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہندوؤں کے تمام طبقات کو مندروں میں داخلہ کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی ، ایس ٹی اور دیگر طبقات کو ملک کی ہر مندر میں داخلہ کی اجازت دی جائے ۔ ایم کے اسٹالن نے کہا کہ جس ملک میں مندروں میں تمام طبقات کو داخلہ کی اجازت نہیں ، وہاں یکساں سیول کوڈ کا نفاذ کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکساں سیول کوڈ کا نفاذ سب سے پہلے ہندو مذہب پر ہونا چاہئے۔ ایم کے اسٹالن نے کہا کہ دستور ہند نے ہر شخص کو مذہبی آزادی فراہم کی ہے، لہذا ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی ضرورت نہیں ہے ۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو یکساں سیول کوڈ کے بجائے غربت ، مہنگائی اور بیروزگاری کے بارے میں جواب دینا چاہئے۔ وزیراعظم نے منی پور کی سنگین صورتحال پر اظہار خیال نہیں کیا ۔ منی پور جل رہا ہے اور عوام طویل عرصہ سے تشدد کا سامنا کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ بھوپال میں بی جے پی کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی بھرپور وکالت کی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دو قوانین پر عمل آوری ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے مسلم ممالک میں طلاق ثلاثہ کو ختم کردینے کا حوالہ دیا جن میں پاکستان ، بنگلہ دیش ، مصر ، انڈونیشیا، قطر ، اردن اور شام شامل ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورہ مصر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 80 تا 90 سال قبل مصر میں طلاق ثلاثہ پر پابندی عائد کردی گئی جبکہ ملک کی 90 فیصد آبادی فقہ حنفی پر عمل کرتی ہے۔ وزیراعظم نے طلاق ثلاثہ اور یکساں سیول کوڈ کے معاملہ میں اپوزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ گزشتہ سال ستمبر میں خانگی ممبر بل راجیہ سبھا میں متعارف کیا گیا جس میں یکساں سیول کوڈ کے لئے قانون سازی کی مانگ کی گئی۔ اپوزیشن کی مخالفت کے نتیجہ میں بل پر مباحث نہیں ہوسکے تھے۔ر