یکساں سیول کوڈ کے نام پر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش

   

ملک کی 80 فیصد آبادی حکومت کے پانچ کیلو راشن کی محتاج ۔ سینئر وکیل محمود پراچہ کا اظہار خیال
حیدرآباد۔18جولائی (سیاست نیوز) ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے والی طاقتیں یونیفارم سیول کوڈ کے نام پر عوام کا استحصال کرکے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام کر رہی ہیں۔ آر ایس ایس و بی جے پی کو شکست سے دوچار کرنا اور ان کے بائیکاٹ کو یقینی بنانا ہر اس ہندوستانی کی ذمہ داری ہے جو دستور پر یقین رکھتا ہے ۔ سینیئر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ جناب محمود پراچہ نے کل پریس کلب حیدرآباد میں یونیفارم سیول کوڈ سے متعلق مذاکرہ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت یونیفارم سیول کوڈ کے نام پر ہندستان کے دوست ممالک کے ساتھ اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہی ہے ۔انہو ںنے چین کے ہندوستان کی 2000 کیلو میٹر اراضی پر قبضہ کئے جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو ملک کی سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بناتی لیکن ہندستان میں آج جب 80کروڑ آبادی حکومت سے 5کیلو چاول کیلئے محتاج ہے ایسے میں حکومت مسلمانوں سے نفرت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں دستور نے ہر شہری کو جو بنیادی حقوق فراہم کئے ہیں ان کے تحفظ کو حکومت یقینی بنائے ۔پریس کلب سوماجی گوڑہ میں اس مذاکرہ میں جناب ظہیر الدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر سیاست ‘ جناب عثمان بن محمد الہاجری ‘ پروفیسر انور خان کے علاوہ مختلف تنظیموں اور اداروں کے قائدین موجود تھے ۔جناب محمود پراچہ نے کہا کہ یونیفارم سیول کوڈ کی کوششیں دراصل سیاسی مقاصد کے علاوہ قبائیلی آبادیوں کی اراضیات چھیننے اور مسلمانوں کے متعلق نفرت پھیلانے کی کوشش ہے۔انہوں نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک میں عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے اڈانی اور امبانی جیسی طاقتوں کوفائدہ پہنچارہی ہے اور انہیں ریل ‘ ہوائی جہاز‘ برقی کے علاوہ دیگر اداروں اور ملک کے ذخائر فروخت کررہی ہے۔سپریم کورٹ ایڈوکیٹ نے ملک میں بے چینی کی کیفیت اور موجودہ حالات کیلئے مرکز و آر ایس ایس کو ذمہ دار قراردیا۔م