نئی دہلی : یکم اگست سے نئے ماہ کی شروعات کے ساتھ ہی کچھ ایسی مالیاتی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں جو عوام کی جیب پر براہ راست اثر ڈالنے والی ہیں۔ ان میں گیس سلنڈر کی قیمت سے لے کر فاسٹیگ اصول اور ایچ ڈی ایف سی بینک کریڈٹ کارڈ کے اصول تک شامل ہیں۔سرکاری گیس کمپنیاں ہر ماہ کی یکم تاریخ کو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں کا تجزیہ کرتی ہیں۔ آج بھی کمپنیوں نے کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمتوں میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت آج سے ساڑھے آٹھ روپے تک بڑھ گئی ہے۔ اس سے قبل جولائی میں گیس سلنڈر کی قیمتوں میں تخفیف کا اعلان کیا گیا تھا۔ملک کے بڑے بینکوں میں شمار ایچ ڈی ایف سی بینک نے آج سے اپنے کریڈٹ کارڈ اصول میں تبدیلی کی ہے۔ آج سے کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ کریڈ، چیک، موبی کوئک، فریچارج جیسے تھرڈ پارٹی ایپ پر پیمنٹ کرنے پر آپ کو ٹرانزیکشن کی رقم کا ایک فیصد سروس چارج کی شکل میں دینا ہوگا۔ جن فاسٹیگ صارفین کے ’کے وائی سی‘ کرائے ہوئے تین سال سے زیادہ کا وقت ہو گیا ہے انھیں یکم اگست سے لے کر 31 اکتوبر تک از سر نو کے وائی سی کروانا ضروری ہو گیا ہے۔ علاوہ ازیں فاسٹیگ اکاؤنٹ کا کے وائی سی عمل پورا نہ ہونے پر یکم اگست سے اسے بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔
مالی سال 25-2024 کا انکم ٹیکس ریٹرن آج سے فائل کرنے پر آپ کو پنالٹی دینی ہوگی۔ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی آخری تاریخ 31 جولائی کو ختم ہو گئی ہے۔ اس طرح اب ریٹرن فائل کرنے پر 1000 روپے سے لے کر 5000 روپے تک کا جرمانہ دینا ہوگا۔گوگل میپس کی سروس آج سے سستی ہو گئی ہے۔ گوگل میپس نے ہندوستان میں اپنا سروس چارج 70 فیصد تک سستا کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اب صارفین ڈالر میں پیمنٹ کرنے کی جگہ روپے میں بھی پیمنٹ کر سکتے ہیں۔