چیف منسٹر کا اعلان، 10 ویں تا کالجس کلاسس کی بحالی، دھرانی پورٹل کی خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت
حیدرآباد: تلنگانہ میں نویں جماعت سے باقاعدہ کلاسس کا یکم فروری سے آغاز ہوگا۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے آج پرگتی بھون میں ریاستی وزراء اور ضلع کلکٹرس کے ساتھ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا۔ یکم فروری سے نویں جماعت سے لیکر کالجس تک کی کلاسس باقاعدہ شروع کردی جائیں گی ۔ ریاست کے تمام سرکاری اور خانگی تعلیمی اداروں میں یکم فروری سے کلاسس کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا ۔ حکومت نے فیصلہ کیا کہ نویں جماعت کے علاوہ دسویں ، انٹرمیڈیٹ ، ڈگری اور دیگر پروفیشنل کورسس کی کلاسس شروع کی جائیں گی۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ تعلیم کے آغاز کیلئے تمام ضروری انتظامات کریں۔ ہاسٹلس اور اقامتی اسکولوں میں ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں اور یکم فروری سے کلاسس کے آغاز کو یقینی بنایا جائے ۔ ضلع کلکٹرس کو تعلیمی اداروں میں صحت و صفائی کے مناسب انتظامات کی ہدایت دی گئی ہے۔ کالجس اور اسکولس کورونا وباء اور لاک ڈاؤن کے سبب گزشتہ کئی ماہ سے بند تھے ، لہذا ہاسٹلس اور اقامتی اسکولوں کی مکمل صفائی کے علاوہ اناج اور دیگر ضروری اشیاء کی سربراہی عمل میں لائی جائے۔ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ 25 جنوری تک تمام تعلیمی اداروں کو کلاسس کے آغاز کے لئے تیار کردیا جائے ۔ وزراء کو ہدایت دی گئی کہ وہ ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی ہاسٹلس کا دورہ کرتے ہوئے انتظامات کا جائزہ لیں ۔ اجلاس میں عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ ریونیو ڈپارٹمنٹ سے متعلق تمام مسائل کی فوری یکسوئی کی جائے ۔ چیف منسٹر نے دھرانی پورٹل کو درپیش مسائل کی اندرون ایک ہفتہ یکسوئی کی ہدایت دی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کورونا ویکسین کی ٹیکہ اندازی کیلئے بھی بڑے پیمانہ پر انتظامات کئے جائیں ۔ انہوں نے جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تمام سرکاری محکمہ جات میں ملازمین اور عہدیداروں کے پروموشن کا عمل جلد مکمل کیا جائے اور مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کئے جائیں۔ انہوں نے شہری علاقوں میں آبادی کے اعتبار سے مارکٹ یارڈس کی تعمیر کی ہدایت دی۔ جائزہ اجلاس میں حکومت کے مشیران اور مختلف محکمہ جات کے سکریٹریز اور ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹس نے شرکت کی ۔ کے سی آر نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کے قیام سے قبل ریونیو ریکارڈ کے تحفظ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے سبب ہمیشہ تنازعات منظر عام پر آتے رہے۔ تلنگانہ حکومت نے تنازعات کو ختم کرنے کیلئے اراضی ریکارڈ کو دھرانی پورٹل پر محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریکارڈ کے ساتھ ساتھ اراضی کے مالک کا نام بھی شامل رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اراضی ریکارڈ کو بہتر بنانے کے علاوہ نئے پاس بکس جاری کئے جارہے ہیں۔ حکومت نے ریونیو سے متعلق مسائل کی یکسوئی کیلئے نیا قانون منظور کیا ہے۔ چیف منسٹر نے دھرانی پورٹل کے ذریعہ اراضیات کی خرید و فروخت کے آغاز کی ستائش کی اور کہا کہ یہ کام شفافیت سے انجام دیا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر نے زرعی اراضیات کی خرید اور فروخت کے کام میں دشواریوں کو کم کرنے عہدیداروں کو ہدایت دی اور کہا کہ اندرون ایک ہفتہ یہ کام مکمل کیا جائے۔ انہوں نے ریونیو ڈپارٹمنٹ سے متعلق امور کی یکسوئی کیلئے ضلع کلکٹرس کو توجہ دینے کی ہدایت دی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ این آر آئیز کو دھرانی پورٹل پر اراضی کے رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی جائے ۔ انہوں نے زرعی اراضیات کی خرید و فروخت کے علاوہ میوٹیشن اور دیگر مسائل کے سلسلہ میں ضلع کلکٹرس کو ہدایات جاری کی ہیں۔