یکناتھ شندے گروپ کو لے کر ادھو گروپ نے کیا بڑا دعوی، جانیے سنجے راوت نے کیا دعوی کیا

   

ممبئی۔ شیوسینا (اُدھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رکن راجیہ سبھا ونائک راوت نے پیر کو دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی شیو سینا کے 22 اراکین اسمبلی ان سے ناراض ہیں اور اسے چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ 13 میں سے 9 اراکین پارلیمنٹ ہماری شیو سینا کے رابطے میں ہیں۔ راوت نے کہا کہ ممبران اسمبلی بھی شندے سینا سے پریشان ہیں کیونکہ ان کا کام نہیں ہو رہا ہے اور ان کی بات نہیں سنی جا رہی ہے۔سنجے راوت کا یہ دعوی شندے گروپ کے ایم پی گجانن کیرتیکر کے بیان کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔
انہوں نے بیان دیا تھا کہ این ڈی اے حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود بی جے پی کی طرف سے شیوسینا کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جا رہا ہے۔ ممبئی لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ گجانن کیرتیکر نے کہا تھا کہ چونکہ شیو سینا ایک بار پھر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیرقیادت قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا حصہ ہے، اس لیے اس کے اراکین پارلیمنٹ کا کام ‘اسی کے مطابق’ ہونا چاہیے، ملی اطلاعات کے مطابق سنجے راوت نے یہ بھی کہا کہ ریاستی وزیر شمبھوراجے دیسائی نے 15 دن پہلے ادھو ٹھاکرے کو ایک پیغام بھیجا تھا، جس میں بتایا تھا کہ وہ کس طرح گھٹن محسوس کر رہے ہیں۔ دیسائی نے تاہم ادھو کو پیغام بھیجنے سے انکار کیا اور مطالبہ کیا کہ راوت کو اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں دو دن کا نوٹس دے رہا ہوں۔ اگر راوت اپنا بیان واپس نہیں لیتے ہیں تو میں قانونی کارروائی کروں گا۔