عام شہریوں کے انخلاء تک حملہ نہ کرنے اقوام متحدہ کی اپیل، لاکھوں افراد گھر بار چھوڑ کر نقل مقام پر مجبور
یروشلم: غاصب اسرائیل کی جانب سے شمالی غزہ پٹی کا تخلیہ کرنے دی گئی 3 گھنٹوں کی مہلت ختم ہوگئی ہے جس کے بعد اسرائیلی افواج ایک بڑے زمینی حملہ کیلئے تیار ہوگئی ہے۔ فوج کو اس حملے کیلئے سیاسی اجازت کا انتظار ہے۔ اسرائیل نے 11 لاکھ فلسطینیوں کو شمالی غزہ کا تخلیہ کرتے ہوئے جنوب منتقل ہوجانے کی ہدایت دی تھی جس کیلئے ایک مخصوص راستہ کا تعین کیا گیا ہے۔ یہودی فوج کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ فوج ایک بڑی فوجی کارروائی کیلئے تیار ہوچکی ہے اور اسے حملہ کیلئے سیاسی فیصلہ کا انتظار ہے۔ اقوام متحدہ اور کچھ گوشوں کی جانب سے تاہم اسرائیل پر دباؤ ڈالا جارہا ہیکہ جب تک عام شہری شمالی غزہ کا تخلیہ نہیں کردیتے کوئی فوجی کارروائی نہ کی جائے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ میں اب تک 3500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔درحقیقت فلسطین سے منسلک حماس گروپ کی طرف سے کیے گئے اس حملے میں 1,300 سے زیادہ اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے ، جس کا اسرائیل نے امریکہ کے 9/11 سے موازنہ کیا ہے اور حماس کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر جوابی بمباری کی مہم شروع کی ، جس کے نتیجے میں غزہ میں 2200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ غزہ شہر کے رہائشیوں کو جانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے ، لیکن ایک ترجمان نے ہفتے کو دیر گئے کہا کہ زمینی حملے سے پہلے ان کے پاس جانے کا ابھی وقت ہے ۔جمعہ کے بعد سے ہزاروں غزہ کے باشندے ، جو اسرائیل اور مصر دونوں کی ناکہ بندی کی وجہ سے انکلیو نہیں چھوڑ سکتے ، ملبے سے بھری سڑکوں پر گھومنے کیلئے اپنا سامان تھیلوں اور سوٹ کیسوں میں پیک رہے ہیں۔اسرائیل نے ہفتے کے روز شمالی غزہ پر ایک تازہ فضائی حملہ کیا۔اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے اس سے قبل سرحد پر فرنٹ لائن پر تعینات فوجیوں سے ملاقات کی تھی جس سے حملے کا خدشہ بڑھ گیا تھا۔امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازعہ کو علاقائی تنازعہ میں تبدیل ہونے سے روکنے کیلئے ، امریکہ نے دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کیا ہے جو اسرائیل کے خلاف معاندانہ کارروائی کو روکے گا۔24 لاکھ کی آبادی کے ساتھ دنیا کے گھنی آبادی والے علاقوں میں سے ایک غزہ میں فلسطینی شہریوں کے مستقبل کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ امدادی اداروں نے کہا ہے کہ جب تک تنازعہ جاری رہے گا غزہ کے باشندوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کرنا ناممکن ہے لیکن اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے خوراک، پانی، ایندھن اور طبی سامان کی قلت کے ساتھ، امدادی ادارے گہرے ہوتے انسانی بحران کا انتباہ دے رہے ہیں۔