مودی کو لوک سبھا میں خواتین سے خطرہ… سچائی کا سامنا کرنے تیار نہیں
سپریم کورٹ میں ممتا کی گونج … اتراکھنڈ کے محمد دیپک کو سلام
رشیدالدین
’’لوک سبھا میں زبان بندی‘‘ پارلیمنٹ اور اسمبلی عوامی منتخب نمائندوں کے لئے مسائل پیش کرنے کا پلیٹ فارم ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ کو جمہوریت کا محافظ اور مرکز بھی کہا جاتا ہے لیکن نریندر مودی حکومت نے اسے بی جے پی آفس میں تبدیل کردیا ہے جہاں اپوزیشن کی آواز کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ اپوزیشن کے بغیر جمہوریت اور پارلیمنٹ کا تصور ادھورا ہے لیکن بی جے پی نے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کو آمریت اور ڈکٹیٹرشپ میں تبدیل کرنے کی ٹھان لی ہے ۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن اور خاص طور پر لیڈر آف اپوزیشن راہول گاندھی کی آواز نریندر مودی اور ساتھیوں کو پسند نہیں۔ لہذا راہول گاندھی کو صدر جمہوریہ کے خطبہ پر تحریک تشکر مباحث میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ راہول گاندھی سے آخر حکومت اس قدر خوفزدہ کیوں ہے؟ راہول گاندھی جس مسئلہ کو ایوان میں پیش کرنا چاہتے تھے ، وہ مودی کے 56 انچ کے سینے کے دعویٰ کو بے نقاب کرنے کیلئے کافی ہے ۔ ملک کی سرحدوں کو خطرہ لاحق ہوجائے اور اقتدار پر فائز افراد دشمن کے خلاف فیصلہ کرنے سے پیچھے ہٹ جائیں تو اسے بزدل قیادت کہا جائے گا۔ سچائی سے بچنے کیلئے نریندر مودی نے اسپیکر لوک سبھا اوم برلا کی آڑ میں پناہ لے لی اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے نریندر مودی پر حملہ کی فرضی کہانی بناتے ہوئے لوک سبھا میں جواب کو منسوخ کردیا گیا۔ پارلیمنٹ کی تاریخ کا اسے سیاہ دن ہی کہا جائے گا جب لیڈر آف اپوزیشن کی زبان بندی کردی گئی اور وزیراعظم کے جواب کے بغیر صدر جمہوریہ کے خطبہ کو منظوری دی گئی ۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب لیڈر آف اپوزیشن اور وزیراعظم دونوں نے گورنر کے خطبہ پر تقریر نہیں کی۔ 2004 میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کو اپوزیشن کے احتجاج نے جواب دینے سے روک دیا تھا لیکن اس وقت کے لیڈر آف اپوزیشن نے بحث میں حصہ لیا تھا ۔ راہول گاندھی آخر ایسا کیا کہنے والے تھے کہ جس سے مودی کی ساکھ دنیا بھر میں متاثر ہوسکتی تھی۔ خود ساختہ وشوا گرو بن کر گھومنے والے نریندر مودی نے چین کے بارے میں جس بزدلی کا مظاہرہ کیا ، اس کا انکشاف سابق فوجی سربراہ جنرل نر وانے نے اپنی خود نوشت میں کیا ہے۔ سابق فوجی سربراہ کے مطابق چین کے فوجی ٹینک جب ہندوستانی سرحد تک پہنچ گئے تو انہوں نے راجناتھ سنگھ ، جئے شنکر اور مشیر قومی سلامتی اجیت دووال سے ربط قائم کرتے ہوئے آئندہ کارروائی کے بارے میں پوچھا۔ تینوں سے کوئی جواب نہیں ملا۔ کافی انتظار کے بعد جب دوبارہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو فون کیا گیا تو انہوں نے وزیراعظم سے پوچھ کر جواب دینے کا تیقن دیا۔ مودی سے بات چیت کے بعد راجناتھ سنگھ نے جو جواب دیا وہ ہر کسی کیلئے چونکا دینے والا تھا۔ نریندر مودی نے سرحدوں کی حفاظت کیلئے فیصلہ کن کارروائی کے بجائے جواب دیا کہ ’’آپ جو بہتر سمجھیں وہی کریں‘‘۔ ملک کے وزیراعظم اور وزیر دفاع کے اس جواب پر جنرل نروانے نے لکھا کہ وہ خود کو تنہا محسوس کرنے لگے کیونکہ ملک کی قیادت نے فوج کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا ۔ سابق فوجی سربراہ نے وزیراعظم کے جواب سے فوجی عہدیداروں میں غیر یقینی اور الجھن کا حوالہ دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملک کے وزیراعظم اور وزیر دفاع کو سلامتی کے مسئلہ پر اس قدر غیر ذمہ دارانہ ہونا چاہئے؟ آخر چین سے خوف تھا یا پھر کسی منفی نتیجہ کی صورت میں خود کو بری الذمہ قرار دینے کیلئے فوجی سربراہ کو فیصلہ کا اختیار دے دیا گیا ۔ فوجی لباس پہن کر فوجیوں کے ساتھ تہوار منانے سے کوئی بہادر نہیں ہوجاتا ۔ ملک کی سرحدوں کو جب خطرہ لاحق ہو اور قیادت فیصلہ نہ کرپائے تو اس سے حفاظت کی کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟ مودی ہے تو ممکن ہے اور 56 انچ کے سینے کا دعویٰ کرنے والوں کا پول سابق فوجی سربراہ نے کھول دیا۔ راہول گاندھی نے جب فوجی سربراہ کی کتاب کے اقتباس پڑھنے کی کوشش کی تو تین دن تک مسلسل رکاوٹ پیدا کی گئی اور آخرکار لوک سبھا میں نریندر مودی کے جواب کو منسوخ کردیا گیا ۔ جس طرح ملک میں سوال کرنے والی ہر آواز کو دبانے اور کچلنے کی پالیسی ہے ، اسی طرح لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کی زبان بندی کا اسکیچ تیار کیا گیا۔ نریندر مودی سچ کا سامنا کرنے تیار نہیں ہیں ۔ جنرل نروانے کے انکشاف کا مودی اور راجناتھ سنگھ کو جواب دینا چاہئے ۔ لوک سبھا میں راہول گاندھی کے سوالات سے بچنے کیلئے اسپیکر اوم برلا کے ذریعہ مودی کو جان کے خطرہ کا ڈرامہ رچا گیا۔ اوم برلا نے خفیہ ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی کہ وزیراعظم کے لوک سبھا میں آنے پر کانگریس کی خاتون ارکان انہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں ، لہذا وزیراعظم کو لوک سبھا میں آنے سے روک دیا گیا ۔ وزیراعظم کو خطرہ اور وہ بھی خواتین سے حیرت ہے ۔ وزیراعظم کا خواتین سے یہ خوف پرانا دکھائی دیتا ہے ، شائد یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی نے اپنی شریک حیات کو بھی در در کی ٹھوکریں کھانے کیلئے چھوڑ دیا ہے ۔ اسپیکر لوک سبھا نے دراصل سیکوریٹی آفیسر کا رول ادا کیا ۔ جب پارلیمنٹ میں وزیراعظم محفوظ نہیں تو ان سے سرحدوں کی حفاظت کی کیا توقع کی جائے گی۔ وزیراعظم جوکہ ملک کے 140 کروڑ عوام کے محافظ ہیں، وہ خود پارلیمنٹ میں غیر محفوظ ہوچکے ہیں۔ کسی عام سڑک پر نہیں بلکہ لوک سبھا میں منتخب نمائندوں کے درمیان مودی کو خطرہ کی بات مضحکہ خیز ہے۔ ایک غیر محفوظ وزیراعظم عوام کا کیا تحفظ کرپائے گا۔ خطرہ کی بات کرتے ہوئے نریندر مودی ایک مرتبہ تو اپوزیشن کا سامنا کرنے سے بچ گئے لیکن بجٹ سیشن کے باقی ایام میں کیا لوک سبھا سے غیر حاضر رہیں گے ؟ اگر اتنا ہی خوف ہے تو ایوان میں نشست کے اطراف بلٹ پروف حلقہ تیار کیا جائے اور این ایس جی کے کمانڈوز کو تعینات کرلیں۔ لوک سبھا میں اپوزیشن ارکان سے خطرہ کی بات پر بچے بھی ہنس پڑیں گے ۔ اسپیکر کو خطرہ کی خبر کس خفیہ ذرائع سے ملی ، اس کا انکشاف ہونا چاہئے ۔ راہول گاندھی کے سوالات سے بچنے کیلئے یہ ڈرامہ کیا گیا جس کے اسکرپٹ رائٹر امیت شاہ بتائے جاتے ہیں۔ آخر سچائی سے کب تک منہ موڑتے رہیں گے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے بغیر وزیراعظم نے 95 منٹ کی تقریر کی اور گاندھی خاندان کو خوب کوسا۔ راجیہ سبھا کا ایوان این ڈی اے اجلاس کا منظر پیش کر رہا تھا ۔ پارلیمنٹ سے اتنا ہی خوف ہے تو بہتر ہوگا کہ دونوں ایوانوں کے اجلاس طلب کرنے کی روایت کو ختم کردیں اور ڈکٹیٹر کی طرح احکامات کے ذریعہ ملک کو چلائیں۔
چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اجلاس پر SIR کے خلاف موقف پیش کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کی ہے ۔ انصاف کے حصول کے جب تمام دروازے بند ہوجائیں تو آخری راستہ عدالت کا ہے۔ ملک کی تاریخ میں کسی چیف منسٹر نے آج تک عدالت میں اپنا موقف پیش نہیں کیا لیکن ممتا بنرجی نے قانون کی ڈگری کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ایک تجربہ کار وکیل کی طرح چیف جسٹس کے روبرو اپنے دلائل پیش کئے۔ ممتا بنرجی نے یہ کہتے ہوئے عدالت کو حیرت میں ڈال دیا کہ سب کچھ ختم ہوچکا ہے اور کہیں بھی انصاف نہیں مل رہا ہے ۔ انصاف دروا زے کے پیچھے رو رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کو ممتا بنرجی نے واٹس ایپ کمیشن قرار دیا اور چیف جسٹس کو بتایا کہ SIR کے سلسلہ میں ان کے 6 مکتوب کا کمیشن نے کوئی جواب نہیں دیا ہے ۔ یہ مہم فہرست رائے دہندگان میں نام شامل کرنے کے بجائے ناموں کو حذف کرنے کیلئے ہے۔ نظر ثانی کا کام دو سال میں مکمل کرنے کے بجائے محض تین ماہ میں جبری طور پر ختم کرنے کی تیاری ہے جس کے تحت لاکھوں کی تعداد میں اقلیتوں کے نام حذف کردیئے جائیں گے ۔ ممتا بنرجی جس وقت سپریم کورٹ پہنچیں، سینکڑوں کی تعداد میں وکلاء ان کی بحث سننے کیلئے چیف جسٹس کے اجلاس پر جمع ہوگئے۔ چیف جسٹس اور ان کے ساتھی ججس نے ممتا بنرجی کو بغور سماعت کرتے ہوئے انصاف کا بھروسہ دلایا۔ دوسری طرف ملک میں محمد دیپک کی ہر سطح پر ستائش کی جارہی ہے جس نے اتراکھنڈ کے کوڈ وار میں بجرنگ دل کارکنوں کو منہ توڑ جواب دیا تھا۔ 70 سالہ مسلم بزرگ وکیل احمد کو بجرنگ دل کے کارکن دھمکا رہے تھے کہ وہ اپنی دکان کے نام سے لفظ بابا کو حذف کردیں۔ دیپک کمار وہاں پہنچے اور بجرنگ دل کارکنوں کو چیلنج کیا۔ جب ان کا نام پوچھا گیا تو انہوں نے محمد دیپک سے اپنا تعارف کرایا جس کے بعد بجرنگ دل کے شرپسند فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔ اتراکھنڈ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ دیپک کمار کے انسانی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے جذبہ کی ستائش کرتے ہوئے انعام اور ایوارڈ کا اعلان کرتی لیکن الٹا دیپک کمار کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ موجودہ نفرت کے ماحول میں دیپک کمار جمہوری اور سیکولر طاقتوں کیلئے امید کی ایک کرن ہے ۔ اگر ہر شہر میں ایک محمد دیپک تیار ہوجائے تو پھر فرقہ پرستوں کی خیر نہیں۔ لوک سبھا کی صورتحال پر علامہ اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زبان میری