وارانسی: راہول گاندھی کی قیادت میں جاری بھارت جوڑو نیائے یاترا اترپردیش کے وارانسی پہنچ گئی ہے جہاں لوگوں نے یاترا کا شاندار استقبال کیا۔ یہاں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ ملک میں نفرت کا ماحول ہے، یہ ملک نفرت کا ملک نہیں ہے۔ میں نے بھارت جوڑو یاترا میں کنیا کماری سے کشمیر تک پیدل سفر کیا ۔ اپنی یاترا کے دوران ہزاروں لوگوں سے ملاقات کی ۔ ملک میں خوف کی فضا ہے۔راہول گاندھی نے پیدل یاترا کے دوران لوگوں سے ملاقات کرتے ہوئے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے کہاکہ مجھے بھارت جوڑو یاترا شروع کیے ایک سال ہو گیا ہے۔ میں کنیا کماری سے کشمیر تک پیدل گیا اور 4 ہزار کلومیٹر کی اس یاترا کے دوران میں ہزاروں لوگوں سے ملا ہوں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ لاکھوں لوگ پیدل یاترا میں چلے۔ یاترا میں اگر کوئی دھکا لگنے کے بعد گرتا تو ہجوم اسے اٹھا لیتا، ہجوم اس کی حفاظت کرتا تھا۔ کسان آئے، مزدور آئے، چھوٹے تاجر آئے، بے روزگار نوجوان آئے، انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کے دلوں میں تھا، وہ مجھ سے اکیلے ملے اور اس کے بارے میں بات کی۔راہول گاندھی نے مزید کہا کہ جب چھوٹے تاجر مجھ سے ملتے تھے تو کہتے تھے کہ ہم ڈرتے ہیں کہ کل کیا ہوگا۔ میں نے پوری یاترا میں کہیں نفرت نہیں دیکھی۔ بی جے پی کے لوگ آتے تھے، آر ایس ایس کے لوگ آتے تھے۔ جیسے ہی وہ یاترا میں آتے، پیار سے بولنے لگتے تھے۔ یہ ملک محبت کا ملک ہے، نفرت کا ملک نہیں۔ یہ تب مضبوط ہوتا ہے جب یہ یکجا ہو کر کام کرتا ہے۔راہول گاندھی نے مزید کہا کہ میں یہاں انا کے ساتھ نہیں آیا، میں سر جھکا کر گنگا جی کے پاس آیا ہوں۔ بھارت جوڑو یاترا کے دوران بھی میں سر جھکا کر چلتا تھا۔ میں نے اپنی یاترا سے پہلے ٹیم کو بتا دیا تھا کہ یاترا میں بہت سے چیلنجز ہوں گے۔ لوگ مجھ سے ملنے آئیں گے، غریب لوگ آئیں گے، امیر لوگ آئیں گے، سب آئیں گے، جو بھی آئے اسے لگے کہ میں اپنے گھر آیا ہوں، اپنے بھائی سے ملنے آیا ہوں۔ مجھ سے اس کی ملاقات پیار سے ہونی چاہئے۔
