کے سی آر فرقہ وارانہ ایجنڈہ پر عمل پیرا ، پرانے شہر میں لاک ڈاؤن کے نام پر اقلیتوں کو ہراسانی
حیدرآباد۔ سابق وزیر اور کانگریس قائد محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر ریاست میں فرقہ پرست ایجنڈہ پر عمل آوری کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ریاست کی 10 یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کا تقرر کیا گیا جن میں سے ایک بھی مسلم وائس چانسلر شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اپنے آپ کو سیکولر قرار دیتے ہوئے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن ٹی آر ایس حکومت فرقہ وارانہ ایجنڈہ پر عمل کررہی ہے جو بی جے پی اور آر ایس ایس کا تیار کردہ ہے جس کے تحت اہم عہدوں پر مسلمانوں کو نمائندگی سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلرس کے تقررات میں مسلمانوں کے ساتھ دیگر اقلیتی طبقات سے بھی ناانصافی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن میں بھی مسلم نمائندگی نہیں دی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر مختلف فیصلہ ساز اداروں میں مسلم اور دیگر اقلیتی طبقات کو نظرانداز کررہے ہیں۔ چیف منسٹر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے وعدہ کے ساتھ 2014 میں برسراقتدار آئے لیکن مختلف سرکاری اداروں کے نامزد عہدوں میں مسلمانوں کو ایک فیصد بھی نمائندگی نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سرویس کمیشن اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کیلئے کیا حکومت کو ایک بھی مسلم امیدوار اہلیت کا حامل نظر نہیں آیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد سے کے سی آر اقلیتی اداروں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے تقریباً 80 فیصد اقلیتی ادارے گزشتہ سات برسوں میں بند ہوچکے ہیں۔ چیف منسٹر اقلیتی اداروں کے خاتمہ کے ذریعہ مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کو روک رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی اقلیتی ادارے یا تو صدرنشین سے محروم ہیں یا پھر بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس دور حکومت میں 6 مساجد کو شہید کیا گیا اور 20 ماہ گذرنے کے باوجود سکریٹریٹ میں شہید کردہ دونوں مساجد کی تعمیر کا آغاز نہیں ہوا جبکہ چیف منسٹر نے اسمبلی میں موجودہ مقامات پر تعمیر کا وعدہ کیا تھا۔ محمد علی شبیر نے لاک ڈاؤن کے دوران پرانے شہر بالخصوص ساؤتھ زون کے علاقوں میں پولیس کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ جانبدارانہ سلوک کی شکایت کی اور کہا کہ اقلیتی طبقات کی بڑے پیمانے پر گاڑیاں ضبط کی جارہی ہیں اور مقدمات درج کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل آوری کا مطلب ہراساں کرنا نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے ڈائرکٹر جنرل پولیس سے مطالبہ کیا کہ لاک ڈاؤن میں ضبط کی گئی تمام گاڑیوں کو فوری واپس کیا جائے۔