۔ 23 ہزار 679 کروڑ مختص ۔ تلنگانہ حکومت نے صرف 383 کروڑ جاری کئے

   

Ferty9 Clinic

حکومت کی ڈبل بیڈ روم مکانات اسکیم
آر ٹی آئی تفصیل میں انکشاف۔ کئی ریاستوں میں غریبوں کیلئے مکانات کی تعمیر کا سلسلہ جاری
حیدرآباد۔17اگسٹ(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کے سلسلہ میں ہر سال کروڑہا روپئے بجٹ میں مختص کئے گئے اور 2016-17 مالی سال سے مالی سال 2020-21تک کے اعداد وشمار کا جائزہ لیا جائے تو ریاستی حکومت نے مجموعی اعتبار سے 23ہزار 679 کروڑ 31 لاکھ روپئے ڈبل بیڈ روم مکانات کے لئے مختص کئے ہیں لیکن اس میں اب تک ریاستی حکومت کی جانب سے محض383 کروڑ جاری کئے گئے ہیں۔ قانون حق آگہی کے تحت حاصل کی گئی تفصیلات میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے تعمیر کئے جانے والے ڈبل بیڈ روم مکانات کے لئے اب تک ریاستی حکومت نے 10ہزار 427 کروڑ 85 لاکھ روپئے خرچ کئے ہیں اور ان مکانات کی تعمیر کے لئے حکومت کی جانب سے 19 ہزار 74 کروڑ 60لاکھ کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ حکومت تلنگانہ نے 2014 میں ریاست کے مختلف اضلاع میں 2لاکھ 91ہزار57ڈبل بیڈ روم مکان تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں 1لاکھ 87 مکانات مکمل طور پر تعمیر کئے جاچکے ہیں اور 68ہزار 967 مکانات کی تعمیر قریب الختم ہے اور 58 ہزار331 مکانات کی تعمیر جاری ہے۔ قانون حق آگہی کے تحت حاصل کردہ تفصیلات میں حکومت کی جانب سے 23ہزار 679 کروڑ کی تخصیص عمل میں لائی گئی ہے اور اب تک 10ہزار427 کروڑ روپئے خرچ کئے جاچکے ہیں لیکن خرچ کی گئی رقومات کی تفصیلات میں جو انکشاف ہوا ہے اس کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے 383 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں کیونکہ اب تک خرچ کی گئی جملہ رقم میں حکومت کی جانب سے مالی سال 2015-16 سے مالی سال 2020-2021 کے درمیان ہڈکو سے مختلف شرح سود پر 8ہزار744 روپئے قرض حاصل کیا گیا ہے اور مرکزی حکومت کی جانب سے ڈبل بیڈ روم اسکیم کے لئے شہری تعمیرات کے مقصد سے 1120 کروڑ اور دیہی علاقوں میں تعمیرات کے لئے 190 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر حکومت تلنگانہ نے ان مکانات کی تعمیر پر جو رقم خرچ کی ہے اس کا بڑا حصہ قرض حاصل کرتے ہوئے ادا کیا گیا ہے اور مرکزی حکومت کی جانب سے 1300 کروڑ روپئے حاصل ہوئے ہیں لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے مختص کردہ 23ہزار کروڑ میں کتنی رقومات جاری کی گئی اس کی کوئی تفصیلات نہیں ہیں کیونکہ اب تک خرچ کی گئی رقومات میں ریاستی حکومت کا حصہ محض 383 کروڑ کا ہی ہے۔ مسٹر ایم سرینواس قائد سی پی ایم نے اس سلسلہ میں بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ ہڈکو سے جو قرض حاصل کیا گیا ہے وہ ریاستی حکومت کا حصہ ہے لیکن حکومت کو اس دعوے سے قبل اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ آخر بجٹ میں دکھائی گئی اور مختص کردہ رقم کہاں ہے! انہوں نے بتایا کہ سود پر حاصل کئے گئے قرض سے ڈبل بیڈ روم مکانات تعمیر کئے جا رہے ہیں لیکن انہیں عوام میں انتخابی مقاصد کے حصول کے لئے تقسیم کرنے سے گریز کیا جا رہاہے تاکہ عین انتخابات سے قبل ان مکانات کی تقسیم کا فائدہ حاصل کیاجاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ جب ایک لاکھ مکانات کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے تو ریاستی حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری ان کی تقسیم اور استفادہ کنندگان کی فہرست کو قطعیت دینے کے اقدامات کا آغاز کرے۔M