۔100 سے زیادہ اسرائیلی سفارتخانوں میں ہڑتال‘ خدمات معطل

   

Ferty9 Clinic

مقبوضہ بیت المقدس /3 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) دْنیا کے درجنوں ممالک میں 100 سے زائد اسرائیلی سفارت خانوں اور سفارتی مشنوں کا عملہ غیر معینہ مدت کیلئے ہڑتال کیے ہوئے ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس احتجاج کا اعلان 30 ستمبر کو کیا تھا، جو دراصل وزارت خارجہ اور وزارت خزانہ کے مابین تنازع کا نتیجہ ہے۔ وزارت خارجہ نے ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ اسرائیلی وزارت خزانہ کی طرف سے وزارت خارجہ کے اہل کاروں کے مابین طویل مدت سے طئے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کر کے ہمیں دنیا بھر میں اسرائیلی سفارتی مشن بند کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ اس دوران قونصلر خدمات پیش نہیں کی جائیں گی اور سفارتی مشنوں کی حدود میں داخلے کی اجازت بھی نہیں ہو گی، جرمن خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس اعلان کے بعد امریکا اور جرمنی سمیت دنیا بھر میں اسرائیلی سفارت خانوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا اور کئی عمارتوں کے باہر ہڑتال کے نوٹس کے آویزاں کر دیے گئے۔ واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان ایلاد اشٹرومائر نے لکھا کہ ہم ہڑتال پر ہیں، بدقسمتی سے وزارت خزانہ کے فیصلے نے ہمیں مذکورہ اقدام پر مجبور کر دیا ہے‘۔ جرمنی میں اسرائیلی سفارت خانے نے بھی ایسے ہی الفاظ میں سفارت خانے کی بندش اور ہڑتال کی وضاحت کرتے ہوئے وزارت خزانہ کے یک طرفہ فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق یہ تنازع دراصل دنیا بھر میں تعینات اسرائیلی سفارتی عملے کے ٹیکس کے استثنا سے متعلق ہے۔ اسرائیلی سفارتی اہل کاروں کو کئی دہائیوں سے ٹیکس سے استثنا حاصل ہے تاہم وزارت خزانہ اس میں تبدیلی کی خواہاں ہے۔