بلدی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ، مرکزی حکومت کے عہدیداروں کو پریسائڈنگ آفیسر بنانے کا مطالبہ
حیدرآباد۔12نومبر(سیاست نیوز) ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے 11 مسلمہ سیاسی جماعتو ںکے نمائندوں ہمراہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا ۔ اجلاس کے دوران سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے نمائندوں کو پریسائیڈنگ آفیسر نامزد کئے جانے کے بجائے مرکزی حکومت کے عہدیداروں کو پریسائیڈنگ آفیسر کے عہدہ پر نامزد کرنے کے علاوہ جی ایچ ایم سی کے حدود میں موجود بلدی ڈیویژنس میںرائے دہندوں کی تعداد میں یکسانیت پیدا کرنے اور بی سی تحفظات پر مؤثر عمل آوری کو یقینی بنانے کے اقدامات پر زور دینے کے علاوہ فہرست رائے دہندگان میں موجود نقائص کو دور کرتے ہوئے فرضی ناموں کو حذف کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ریاستی الیکشن کمشنر مسٹر پارتھا سارتھی کی جانب سے طلب کئے گئے مسلمہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے اجلاس میں تلنگانہ راشٹر سمیتی سے رکن قانون ساز کونسل مسٹر سرینواس ریڈی ‘ بھارتیہ جنتا پارٹی سے مسٹر این وی وی ایس پربھاکر ‘ چنتلہ رامچندر یڈی سابق ارکان اسمبلی ‘ کانگریس سے مسٹر ایم ششی دھر ریڈی ‘ مسٹر نرنجن کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے مسٹر سی ایچ وینکٹ ریڈی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے اپنی اپنی رائے سے واقف کروایا اور کہا کہ انتخابات کے انعقاد کو صاف و شفاف بنایا جائے اور کسی بھی طرح کی جانبداری نہ ہو اس کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے نمائندوں نے کہا کہ ان کی جماعت کو مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں پر اعتماد نہیں ہے اسی لئے ان کی نگرانی میں انتخابات کے انعقاد کے حق میں ان کی پارٹی نہیں ہے کیونکہ بلدی عہدیدارو ںنے موجودہ کارپوریٹرس کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے فہرست رائے دہندگان سے بی جے پی کے حامی رائے دہندوں کے ناموں کو حذف کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔