۔127 افراد کو آدھار اتھارٹی کی نوٹس غیر قانونی و غیر دستوری

   

اختیارات کے بیجا استعمال کا الزام ۔ شہر کے ایک وکیل کی مفاد عامہ کے تحت قانونی نوٹس
حیدرآباد 20 فروری (سیاست نیوز)
UIDAI
کی جانب سے حیدرآباد کے 127 شہریوں کو نوٹس جاری کئے جانے کو غیر قانونی اور غیر دستوری قرار دیتے ہوئے شہر کے ایک وکیل نے متعلقہ حکام کو مفاد عامہ کے تحت قانونی نوٹس جاری کی۔ یہ نوٹس مرکزی کابینہ سکریٹری،
UIDAI
چیرمین اور آدھار کارڈ کے ریجنل آفس حیدرآباد کو جاری کی گئی ہے۔ ہائیکورٹ کے وکیل خواجہ اعجاز الدین نے مفاد عامہ کے تحت ایک نوٹس جاری کی جس میں بتایا کہ یو آئی ڈی اے آئی جو آدھار کارڈ ایکٹ 2016 ء کے تحت قائم کیا گیا ہے نے اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کیا ہے اور اپنے دائرہ کار سے باہر جاکر شہریان کو نوٹس جاری کی ہے۔ آدھار کارڈ کے مطابق یو آئی ڈی اے آئی کسی بھی شہری سے اُس کے ہندوستانی شہری ہونے کا ثبوت طلب نہیں کرسکتا اور نہ ہی اِس سلسلہ میں کوئی دستاویزات طلب کرسکتے ہیں۔ متعلقہ ادارہ کو کسی بھی قانون کے تحت یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی بھی شہری کو اُس کی شہریت کے بارے میں سوال کرے اور اُس سے دستاویزات طلب کرے۔ یو آئی ڈی اے آئی کا صرف اتنا اختیار ہے کہ غیر مجاز طور پر آدھار کارڈ حاصل کرنے کا ثبوت ملنے پر اُس شہری کا آدھار کارڈ منسوخ کیا جاسکتا ہے نہ کہ اُس کی شہریت۔ وکیل نے اپنی نوٹس میں کہاکہ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے رجسٹرار جنرل سٹیزن رجسٹریشن (این پی آر) کا کام شروع کرنے کی خواہاں ہے اور اُس سے قبل یو آئی ڈی اے آئی سے 127 شہریوں کو اُن کی شہریت پر شبہ کرکے نوٹس جاری کرنا غیر قانونی اور غیر دستوری ہے۔ ایڈوکیٹ خواجہ اعجازالدین نے نوٹس میں مطالبہ کیاکہ یو آئی ڈی اے آئی فی الفور کارروائی کرکے نوٹسوں کو واپس لے ورنہ مفاد عامہ کے تحت سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی جائے گی۔