۔154 مخدوش عمارتوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ

   

103 عمارتوں کی مرمت و تزئین ، 35 افراد کے لیے عارضی رہائش
حیدرآباد۔ شہر میں مخدوش عمارتوں کے منہدم ہونے اور دیواروں کے گرنے کے واقعات کے ساتھ ہی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے جی ایچ ایم سی حدود میں 154مخدوش عمارتوں کو منہدم کرنے کے اقدامات کئے گئے جبکہ 103 مخدوش عمارتو ںکی مرمت اور تزئین کی اجازت دی گئی ہے۔ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر لوکیش کمار نے بتایا کہ ریاستی وزیر مسٹر کے ٹی راما راؤ کی ٹیلی کانفرنس کے دوران دی گئی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے جی ایچ ایم سی کی جانب سے چارمینار‘ فلک نما‘ لال دروازہ ‘ سنتوش نگر‘ چمپا پیٹ‘موسیٰ باؤلی شاہ علی بنڈہ ‘ دودھ باؤلی ‘حسینی علم عاشور خانہ ‘ کوکہ کی ٹٹی ‘حیدرگوڑہ‘ راجندر نگر‘ کاچی گوڑہ ‘ عنبر پیٹ‘پدما راؤ نگر ‘ شانتی نگر اور سکندرآباد کے علاقو ںمیں19 مخدوش عمارتوں کو منہدم کیا گیا ہے جبکہ چنتل بستی ‘ افضل ساگر‘ ملے پلی ‘جمعرات بازار‘گگن پہاڑ ‘ مدی راج بستی ‘منگل ہاٹ رحیم پورہ کے علاقوں میں جملہ 14مخدوش عمارتوں کا تخلیہ کروایا گیا ہے اور 35 افراد کی رہائش کے لئے عارضی انتظامات کو یقینی بنایاگیا۔مسٹر لوکیش کمار نے بتایاکہ تمام زونل کمشنران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں موجود مخدوش عمارتوں کے تخلیہ کو یقینی بنانے کے علاوہ انہیں منہدم کرنے کے اقدامات کریں۔