بی جے پی یوم آزادی اور طلبہ تنظیم روزگار کے جملہ بازی دن کے طور پر منائے گی
حیدرآباد۔3 ۔ستمبر (سیاست نیوز) سقوط حیدرآباد ہر سال 17 ستمبر کو منایا جاتا ہے اور یہ محض اتفاق ہے کہ 17 ستمبر کو وزیراعظم نریندر مودی کی سالگرہ ہے ۔ سقوط حیدرآباد کو بی جے پی یوم آزادی کے طور پر مناتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ہر سال 17 ستمبر کو سرکاری طور پر منایا جائے۔ دیگر جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے 17 ستمبر یوم انضمام کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ وزیراعظم کی سالگرہ کے دن کو ملک میں نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی میں ناکامی کے طورپر ’جملہ ایمپلائیمنٹ ڈے‘ یعنی روزگار پر جملہ بازی کا دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا ۔ سماجی تنظیم یووا ہلہ بول کے نیشنل کنوینر انوپم نے کہا کہ مودی نے ہر ہندوستانی کو 15 لاکھ روپئے کا وعدہ کیا تھا ، اسکے علاوہ ہر سال دو کروڑ روزگار کا اعلان کیا جو پورا نہیں ہوا۔ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی میں حکومت کی ناکامی کے خلاف یووا ہلہ بول نے وزیراعظم کی سالگرہ کے دن منفرد احتجاج کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ تنظیم قومی سطح پر بیروزگاری اور نوجوانوں کے مسائل پر جدوجہد کرتی ہے ۔ انوپم کے مطابق وزیراعظم کی سالگرہ کو بیروزگاری اور جملہ بازی سے موسوم کیا جائے گا ۔ 17 ستمبر کو ہلہ بول تنظیم نے کئی پروگراموں کی منصوبہ بندی کی ہے اور منصوبہ کو راز میں رکھا گیا ہے ۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مودی دور حکومت میں بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے جبکہ 2014 اور 2019 ء انتخابات سے قبل نوجوان کیلئے کئی وعدے کئے گئے جو بعد میں انتخابی جملہ ثابت ہوئے۔ ایک طرف بی جے پی 17 ستمبر کو یوم آزادی حیدرآباد کے طور پر منائے گی تو دوسری طرف طلبہ تنظیم نے بیروزگاری سے اس دن کو موسوم کرتے ہوئے جملہ بازی دن کے طور پر منانے کا اعلان کرتے ہوئے عوام کی دلچسپی میں اضافہ کردیا ہے۔ R