۔2 روپئے میں علاج کرنے والے ڈاکٹر اسماعیل کورونا سے فوت

,

   

کرنول کے ہردلعزیز ڈاکٹر کی رحلت پر عوام مغموم ۔ مرحوم ہر فرقہ میں مقبولیت رکھتے تھے
حیدرآباد 23 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) کرنول کے ایک ہردلعزیز ڈاکٹر ‘ جو اپنے مریضوں کا صرف 2 روپئے میں علاج کرتے تھے ‘ کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرگئے ۔ 76 سالہ ڈاکٹر کے ایم اسماعیل حسین کا 14 مارچ کو انتقال ہوا ۔ ان کے معائنوں کی رپورٹ ایک دن بعد موصول ہوئی جس میں انکشاف ہوا کہ وہ کورونا سے متاثر ہوگئے تھے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اسماعیل حسین کا کسی معلوم کورونا مریض سے رابطہ نہیں ہوا تھا تاہم وہ کسی سے بھی متاثر ہوسکتے تھے کیونکہ وہ کورونا ریڈ زون میں کام کر رہے تھے ۔ 76 سالہ ڈاکٹر اسماعیل حسین ایک ہفتے سے اپنے دواخانہ نہیں جا رہے تھے کیونکہ ان کی طبیعت ناساز تھی ۔ وہ مریضوں میں عوام میں مقبول تھے اس لئے مریض ان کے گھر کے باہر قطار لگانے لگے ۔ ڈاکٹر اسماعیل کسی بھی حالت میں اپنے مریضوںکے علاج سے انکار نہیں کرتے تھے اس لئے ایک ہفتے بعد انہوں نے بحالت مجبوری دواخانہ جانا شروع کردیا تھا ۔ ڈاکٹر اسماعیل کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف کرنول ضلع ہی سے نہیں بلکہ پڑوسی ریاست کرناٹک کے ضلع رائچور اور ایک اور پڑوسی ریاست تلنگانہ کے ضلع گدوال سے بھی مریض ان سے رجوع ہوتے تھے ۔ ایک مقامی امام عبدالروف صاحب کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اسماعیل حسین مرحوم نے کبھی پیسے کی پرواہ نہیں کی اور انہوں نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ مریض نے انہیں کیا دیا ہے ۔ جو مریض جتنا اس سے بن سکتا تھا وہ دیدیتا اور ڈاکٹر اسماعیل مرحوم بلا کسی تگ و دو کے اسے رکھ لیتے ۔ ابتداء میں لوگ انہیں صرف دو روپئے دیا کرتے تھے ۔ ان کے اواخر ایام میں لوگ انہیں 10 یا 20 روپئے بھی دیتے تو وہ قبول کرلیتے ۔ اگر کوئی مریض پیسے نہیں بھی دے پاتا تو اس کا بھی اتنی ہی دلچسپی سے علاج کرتے تھے ۔ ابتدائی ایام میں وہ دو روپئے والے ڈاکٹر کے نام سے بھی مشہور تھے ۔ کرنول کے ایک سیاسی مبصر کے چندر شیکھر جو ڈاکٹر اسماعیل کے دوست تھے کہتے ہیں کہ وہاں ایک کارڈ بورڈ کا باکس ہوتا تھا ۔ مریض اس میں پیسے ڈالتے اور اپنی مرضی سے واپس بھی نکال لیتے ۔ لوگ وہاں 10 روپئے ڈالتے اور 5 واپس اٹھالیتے ۔ کوئی 50 روپئے ڈالتا اور 30 واپس لے لیتا ۔ 14 اپریل کو انتقال کے بعد سارے لوگ مغموم تھے اور ان کی خدمات کو خراج پیش کر رہے تھے ۔ ان کی تجہیز و تکفین سرکاری قاعدہ کے مطابق ہوئی اور ان کے فرزند کے بشمول صرف پانچ افراد کو شرکت کی اجازت دی گئی ۔ پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ تین دختران و ایک فرزند شامل ہیں۔